حدیقۃ الصالحین — Page 302
302 ہوں ہم اس کی آنکھ کے گڑھے سے چربی کے منکے بھر بھر کر نکالتے تھے اور اس سے بیل کی طرح یا بیل کے برابر ٹکڑے کاٹتے تھے۔حضرت ابو عبید گانے ہم میں سے تیرہ آدمی لئے اور انہیں اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا اور اس کی پسلیوں سے ایک پہلی لی اسے کھڑا کیا اور ہمارے پاس جو اونٹ تھے ان میں سے سب سے بڑے اُونٹ پر پالان باند ھا تو وہ اس کے نیچے سے گذر گیا اور ہم نے توشہ کے طور پر اس کے گوشت کے پارچے خشک کر کے ساتھ لئے۔جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی۔آپ نے فرمایا یہ رزق تھا جو اللہ تعالی نے تمہارے لئے نکالا تھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ گوشت ہے کہ تم ہمیں بھی کھلاؤ۔راوی کہتے ہیں ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں بھیجا اور آپ نے اسے تناول فرمایا۔326- حَدَّثَنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ نَجِدُ مَا نُكَفْنُهُ إِلَّا بُرْدَةً إِذَا غَطَيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِيَ رَأْسَهُ وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإذخر (بخاری کتاب الجنائز باب اذا لم يجد كفنا الا مایواری راسه (1276) حضرت خباب بن ارت ) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا، کہ ہم نے نبی صلی اللی کم کے ساتھ وطن چھوڑا۔اللہ تعالیٰ ہی کی رضامندی ہم چاہتے تھے اور ہمارا بدلہ اللہ کے ذمہ ہو گیا۔ہم میں سے ایسے بھی ہیں جو مر گئے اور انہوں نے اپنے بدلہ سے کچھ نہیں کھایا۔انہیں میں سے حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں اور ہم میں ایسے بھی ہیں جن کا میوہ پک گیا اور وہ اس میوہ کو چن رہے ہیں۔حضرت مصعب احد کے دن شہید ہوئے تھے اور ہمیں صرف ایک ہی چادر ملی تھی کہ جس سے ہم ان کو کفتاتے۔جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤس کھل