حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 277 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 277

277 دے گا تو وہ تمام حقوق ادا کریں گے لیکن بعد میں جب انہیں اللہ نے مال دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا اور وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے۔حضور صلی للی کم کی مجلس میں ثعلبہ کا ایک عزیز بھی بیٹھا ہوا تھا جو تمام باتیں سُن رہا تھا۔اس نے جاکر ثعلبہ کو ساری صورت حال بتائی اور بڑے افسوس کا اظہار کیا اور کہا تمہارا بُرا ہو۔تمہارے بارہ میں تو قرآن کریم نازل ہوا ہے یہ سُن کر ثعلبہ بہت پچھتایا اور صدقات لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور صدقات قبول کرنے کی درخواست کی۔حضور نے فرمایا کہ تمہارا صدقہ لینے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے اس لئے میں نہیں لے سکتا۔یہ سن کر ثعلبہ نے سر پیٹ لیا گریہ وزاری کی اور اپنی بد بختی پر اظہار افسوس کیا۔حضور نے فرمایا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔میں نے تو تمہیں سمجھایا تھا کہ دولت مند بننے کی دعانہ کرواؤ لیکن تم پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔جب ثعلبہ نے دیکھا کہ حضور صدقہ قبول نہیں کرتے تو روتا دھوتا واپس اپنے ڈیرے پر آگیا۔حضور علیہ السلام کی وفات ہو گئی اور آپ نے اس سے کچھ وصول نہ کیا۔پھر وہ حضرت ابو بکر کے پاس صدقات لے کر حاضر ہوا جب آپ خلیفہ بنے اور کہا آپ رسول اللہ صلی علیکم کے حضور میرے مقام کو جانتے ہیں اور انصار میں میرے مرتبہ کو پہچانتے ہیں پس آپ زکاۃ قبول کریں۔لیکن انہوں نے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب حضور نے تمہارا صدقہ قبول نہیں کیا تو میں کس طرح قبول کر سکتا ہوں۔پھر جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو یہ ان کے پاس آئے اور کہا اے امیر المومنین! میر اصدقہ قبول کریں۔انہوں نے فرمایا اسے رسول اللہ صلی الیم نے قبول نہیں کیا اور نہ حضرت ابو بکر نے تو میں کیسے قبول کر لوں۔حضرت عمرؓ نے اپنی وفات تک ان سے صدقات قبول نہ کئے۔پھر حضرت عثمان خلیفہ بنے تو وہ آپ کے پاس آیا اور آپ سے زکاۃ قبول کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا کہ اسے رسول اللہ صلی لی ہم نے قبول نہیں کیا اور نہ حضرت ابو بکڑنے اور نہ حضرت عمرؓ نے تو میں کیسے قبول کروں۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں ثعلبہ فوت ہو گیا۔