حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 276 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 276

276 لوگوں سے ان کے حال و احوال دریافت کرنے کے لئے گھر سے نکلتے تھے۔آپ نے ایک جمعہ کے دن ثعلبیہ کے بارہ میں لوگوں سے دریافت فرمایا کہ اس کا کیا حال ہے۔لوگوں نے عرض کیا حضور تعلبہ نے بکریاں لے لی ہیں اور اب اس کا ریوڑ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وادی میں بھی نہیں سماتا۔حضور نے یہ سن کر ثعلبہ کے متعلق تین بار اظہار افسوس کیا۔جب اللہ تعالیٰ نے آیات صدقات نازل فرمائیں تو حضور علیہ السلام نے بنو سلیم میں سے ایک شخص اور بنو جھینہ میں سے ایک شخص کو بطور محصل مقرر فرمایا اور انہیں صدقات میں لئے جانے والے جانوروں کی عمروں وغیرہ کے بارہ میں احکام لکھ کر دیئے کہ اس حساب سے زکوۃ وصول کرنا۔اور ان دونوں سے فرمایا تعلبہ بن حاطب اور بنو سلیم کے ایک شخص کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے زکوۃ وصول کر و۔وہ دونوں محصل ثعلبہ کے پاس آئے اور زکوۃ کا مطالبہ کیا۔صدقات کی تفصیل پڑھ کر ثعلبہ کہنے لگا یہ تو جزیہ ہے اور اگر یہ جزیہ نہیں تو اس سے ملتا جلتا ٹیکس ہے۔اچھا جاؤ فارغ ہو کر واپسی پر یہاں سے ہوتے جانا۔وہ دونوں محصل یہ سن کر چلے گئے اور دوسرے شخص سلمی کی طرف گئے جب سلمی کو ان محصلوں کے آنے کا علم ہوا تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے اعلیٰ اونٹ چن کر صدقات کے لئے نکالے اور انہیں محصلین کے پاس لایا۔جب محصلوں نے ان جانوروں کو دیکھا تو کہا کہ اس طرح کے قیمتی اور عمدہ جانور لینے کا ہمیں حکم تو نہیں۔یہ سُن کر سلمی کہنے لگا میں یہ اپنی خوشی سے دے رہا ہوں۔وہ دونوں محصل اور لوگوں سے صدقات وصول کرنے کے بعد ثعلبہ کے پاس دوبارہ آئے تو ثعلبہ نے پہلے جیسا طرزِ عمل اختیار کیا اور کہا تم دونوں جاؤ میں سوچ کر فیصلہ کروں گا کہ کتنی زکوۃ ادا کرنی ہے۔وہ دونوں محصل حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب رسول اللہ صلی علیم نے ان دونوں کو دیکھا تو ان کے بولنے سے پہلے فرمایا ثعلبہ پر افسوس، پھر سلمی (شخص) کے لیے دعا برکت کی۔اور انہوں نے سلمی اور ثعلبہ دونوں کے بارہ میں سارے حالات عرض کئے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ (التوبة 75-76) کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ انہیں مال