حدیقۃ الصالحین — Page 257
257 روزہ اور اس کی اہمیت 271 عن أبي صالح الآيَاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا القِيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصَّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُتُ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَامَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ قَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفَطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ (بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا شتم 1904) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی المیت کم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اُس کے لئے ہوتا ہے سوائے روزہ کے۔کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اُس کا بدلہ ہوتا ہوں اور روزے ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ کوئی فحش بات نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔اور اگر کوئی اُس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے: میں روزہ دار شخص ہوں۔اور اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یقینا روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔( پہلی خوشی ) اُس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ افطار کرتا ہے اور ( دوسری ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔272- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يداع قَوْلَ النُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِي أَن يَدعَ طَعَامَهُ وَقَرَابَهُ (بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور (1903)