حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 256 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 256

256 269ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ مُجْرَةً فِي المَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ليَايَ حَلى اجتمع إلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةٌ، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاةَ المَكْتُوبَةَ (بخاری کتاب الاعتصام باب ما يكره من كثرة السوال و من تكلف ما لا يعنيه 7290) حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ ہم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنالیا اور رسول اللہ صلی للی نیلم نے چند رات نماز پڑھی یہاں تک کہ کچھ لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔پھر انہوں نے ایک رات آپ کی آہٹ نہ پائی تو وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں یہ خیال کر کے ان میں سے بعض کھانسی کرنے لگے تا کہ آپ ان کے پاس باہر آئیں تو آپ نے فرمایا یہ تمہارا کام جو میں نے دیکھا ہے کہ تم برابر کر رہے ہو اس سے میں ڈر گیا کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور اگر تم پر فرض کر دی گئی تو تم کبھی اس کو بیجا نہ لا سکو اس لئے لو گو تم اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھو کیونکہ آدمی کی افضل نماز وہی ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھے سوائے فرض نماز کے۔270- عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ (ابوداؤد کتاب الصلاة باب في بناء المساجد (449) الله حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صلی ہی ہم نے فرمایاوہ گھڑی نہیں آئیگی جب تک کہ لوگ مساجد کے بارہ میں ایک دوسرے پر فخر نہ کریں۔