حدیقۃ الصالحین — Page 247
247 فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ تَصُوم وَأَنا رجل شاب فَلَا أَصْبِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أَصَلَّى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أهل بيت قد عرف لنا ذاك لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ (مشكاة المصابيح كتاب النكاح باب عشرة النساء وما لكل واحدة من الحقوق ، الفصل الثالث (3269) حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی ا کرم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا خاوند صفوان بن معطل ( مجھ سے بُرا سلوک کرتا ہے) جب میں نماز پڑھوں تو مجھے مارتا ہے اور اگر روزہ رکھوں تو روزہ کھلوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتا ہے جب سورج نکل آیا ہوتا ہے۔صفوان اس وقت مجلس میں موجود تھے۔آپ نے ان سے ان شکایات کے بارے میں پوچھا۔انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ جو کہتی ہے کہ میں نماز پڑھوں تو یہ مارتا ہے۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نماز میں ( لمبی لمبی) دو سورتیں پڑھتی ہے۔(اور مجھے کام پر جانا ہوتا ہے، اس لئے) میں نے اسے کہا ہے کہ چھوٹی سورت پڑھے (تاکہ یہ میرے لئے کھانا پکا سکے اور میں کام پر جاسکوں) اس پر رسول اللہ صلی اللی کم نے فرمایا اگر قرآن کی ایک ہی سورت ہو تو لوگوں کے لئے کافی ہے (یعنی ایک سورۃ پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے)۔پھر صفوان نے کہار ہی اس کی یہ شکایت کہ اگر میں روزہ رکھوں تو یہ روزہ تڑوادیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی ہی چلی جاتی ہے اور ( آپ جانتے ہیں کہ میں نوجوان ہوں) اتناصبر نہیں کر سکتا۔اس پر رسول اللہ صلی یم نے فرمایا کہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی عورت نفلی روزے نہ رکھے۔اب رہا ( اس کا آخری) اعتراض کہ میں نماز اس وقت پڑھتا ہوں جب سورج طلوع ہو جاتا ہے تو ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہمارے بارہ میں سب لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم سورج چڑھے اٹھتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا اے صفوان ! جب تم جا گو تو نماز پڑھ لیا کرو۔250- عن أنس بن مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّعَاءُ لَا يُرَةُ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ (ترمذی کتاب الصلاة باب ما جاء ان الدعا لا يرد بين الاذان والاقامة (212)