حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 236 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 236

236 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت ظہر سے پہلے نہیں چھوڑا کرتے تھے اور دور کعتیں صبح سے پہلے۔232- عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ الْأَنْصَارِي، قَالَ صَيْتُ رَسُول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلّم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ (ابوداؤد ، تفریع ابواب صلاة السفر ، باب التطوع في السفر 1222) حضرت برء بن عازب انصاری سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں میں اٹھارہ سفروں میں رسول اللہ صلی این یکم کے ساتھ رہا۔میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے دور کعتیں چھوڑی ہوں۔233 - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إذَا اختلف المؤذن للصبح وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ (صحيح البخاري، كتاب الأذان باب الاذان بعد الفجر 618) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ حضرت حفصہ نے مجھے بتایا کہ جب مؤذن صبح کی اذان دے کر بیٹھ جاتا اور صبح نمودار ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی سی دور کعتیں پڑھتے ، پیشتر اس کے کہ باجماعت نماز شروع کی جاتی۔عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ (مسلم کتاب صلاة المسافرين باب استحباب ركعتى سنة الفجر 1177) حضرت حفصہ فرماتی ہیں جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی ا لیکن صرف دو ملکی رکعتیں پڑھتے۔