حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 235 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 235

235 230ـ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَطَوُّعِهِ ؟ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْنِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الوثر، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاهُمْ رَكَعَ وَسَجَد وَهُوَ قائم، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ (مسلم کتاب صلاة المسافرين باب جواز النافلة قائما و قاعدا 1193) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رسول اللہ صلی علیم کی نفل نماز کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضور علی الیکم میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے پھر باہر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر اندر تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے اور آپ لوگوں کو مغرب پڑھاتے پھر (اندر) تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے پھر آپ گوگوں کو عشاء پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لاتے اور دور کعت ادا فرماتے اور آپ رات کو نور کعت پڑھتے جن میں وتر شامل ہیں۔اور آپ لمبی رات کھڑے ہو کر اور لمبی رات بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ کھڑے ہو کر قرات فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دور کعت پڑھتے۔231 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الغَدَاةِ (بخاری كتاب التهجد باب الركعتين قبل الظهر (1182 1: مراد یہ ہے کہ جب کھڑے ہو کر قراءت فرماتے تو قیام سے رکوع و سجود میں جاتے اور جب بیٹھ کر قراءت فرماتے تو بیٹھنے کی حالت سے ہی رکوع و سجود میں جاتے۔