حدیقۃ الصالحین — Page 167
167 حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے یعنی مجھ پر میری جان تنگ ہو چکی تھی اور مجھ پر زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہو گئی تھی۔اس اثناء میں ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا۔اے کعب بن مالک تمہیں بشارت ہو۔میں یہ سن کر سجدہ میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہو گئی اور رسول اللہ نے جب آپ فجر کی نماز پڑھ چکے اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر لوگ مجھے خوشخبری دینے لگے اور میرے ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا ہوگائے ہوئے آیا اور اسلم قبیلہ کا ایک شخص دوڑا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی میں نے اس کے لئے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اس کو پہنائے۔اس لئے کہ اس نے مجھے بشارت دی تھی اور اللہ کی قسم اس وقت ان کے سوامیرے پاس اور کچھ نہ تھا اور میں نے دو اور کپڑے عاریتا لئے اور انہیں پہنا اور رسول اللہ صلی لنی کیم کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک دیتے تھے۔کہتے تھے۔تمہیں مبارک ہو۔جو اللہ نے تم پر رحم کر کے توبہ قبول کی ہے۔کعب کہتے تھے۔آخر میں مسجد میں پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں رسول اللہ لی لی نام مسجد میں بیٹھے ہیں۔آپ کے ارد گر دلوگ ہیں۔طلحہ بن عبد اللہ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک دی۔مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اٹھ کر نہیں آیا اور طلحہ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا اور کعب کہتے تھے۔جب میں نے رسول اللہ صلی شیرینم کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ صلی می نم نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔تمہیں بشارت ہو۔نہایت ہی اچھے دن کی ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا تم پر گزرے ہیں۔کہتے تھے میں نے پوچھا۔یارسول اللہ ! کیا یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے۔آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔رسول اللہ صلی علی یکم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ ایسا روشن ہو جاتا کہ گویاوہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔میں نے کہا یارسول اللہ ! میں اس تو بہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دست بردار ہوتا ہوں جو رسول اللہ صلی علیم کی خاطر صدقہ