حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 166 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 166

166 قبطی ان لوگوں میں سے ہے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لئے آئے تھے وہ کہہ رہا ہے کعب بن مالک کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارہ سے بتانے لگے۔جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔اس میں یہ مضمون تھا۔اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کر کے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا تھا جہاں ذلت ہو اور تمہیں ضائع کر دیا جائے۔تم ہم سے آکر ملو۔ہم تمہاری خاطر مدارت کریں گے۔جب میں نے یہ خط پڑھا میں نے کہا یہ بھی مصیبتوں کی ایک مصیبت ہے۔میں نے وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں جھونک دیا۔جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی علیکم کا پیغام لانے والا میرے پاس آرہا ہے۔اس نے کہا رسول اللہ صلی یہی تم تم سے فرماتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔میں نے پوچھا۔کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔آپ نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔میں نے اپنی بیوی سے کہا اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انہیں کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ کرے۔کعب کہتے تھے۔پھر ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ صلی الیکم کے پاس آئی اور کہنے لگی۔یارسول اللہ ! ہلال بن امیہ بہت بوڑھا ہے۔اس کا کوئی نوکر نہیں۔کیا آپ نا پسند فرمائیں گے اگر میں اس کی خدمت کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔لیکن تمہارے قریب نہ ہو۔کہنے لگی۔اللہ کی قسم اس کو تو کسی بات کی تحریک نہیں ہوتی۔اللہ کی قسم وہ اس دن سے آج تک رورہا ہے جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے۔میرے بعض رشتہ داروں نے مجھ سے کہا اگر تم بھی رسول اللہ صلی علیم سے اپنی بیوی کے متعلق ویسے ہی اجازت لے لو جب کہ آپ نے ہلال بن امیہ کو اس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔میں نے کہا اللہ کی قسم میں تو رسول اللہ صلی علیم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی الیم مجھے کیا جواب دیں اور میں جو ان آدمی ہوں۔اس کے بعد میں رات اور ٹھہر ارہا۔یہاں تک کہ ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوئیں کہ جب رسول اللہ صلی ال کلم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔جب پچاس رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا ور اسی