حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 137 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 137

137 أَنْزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ، وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ؟ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ، فَقَالَ اسْكُتُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِى، الْغَنِي الْخَفِيَ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن للمومن وجنة الكافر (5252) عامر بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اپنے اونٹوں میں تھے کہ ان کا بیٹا عمر اُن کے پاس آیا۔جب حضرت سعد نے اسے دیکھا تو کہا میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔وہ نیچے اتر اتو اس نے ان سے کہا کہ آپ اپنے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں میں آگئے ہیں اور لوگوں کو سلطنت کے بارہ میں باہمی تنازعہ کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں۔اس پر حضرت سعد نے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور کہا کہ خاموش ہو جاؤ۔میں نے رسول اللہ صلی اینیم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یقینا اللہ متقی بے نیاز اور لوگوں کی نظر سے پوشیدہ بندہ کو پسند کرتا ہے۔الشرسة 109- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ ؟ قَالَ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِي اللَّهِ ابْنِ نَبِيَّ اللهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ، قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ العَرَبِ تَسْأَلُونِي قَالُوا نَعَمْ، قَالَ فَخَيَارُكُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب قوله لقد کان فی یوسف و اخوته آيات للسائلين 4689) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون زیادہ معزز ہے ؟ آپ نے فرمایا اُن میں سے اللہ کے نزدیک وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔لوگوں نے کہا اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے۔آپ نے فرمایا پھر لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسف نہیں جو اللہ کے نبی، نبی اللہ کے بیٹے، نبی اللہ کے پوتے اور خلیل اللہ (حبیب خدا) کے پڑ پوتے ہیں۔انہوں نے کہا اس کے متعلق بھی ہم آپ