حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 136 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 136

136 عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ المُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّق بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ تَخَافُنِي؟ قَالَ لَا، قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِي ؟ قَالَ اللهُ فَتَهَذَدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع 4136) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں تھے کہ اتنے میں ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس پہنچے ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ چھوڑ دیا، اتنے میں مشرکوں میں سے ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار در صحت سے نکلی ہوئی تھی۔اس نے اس کو سونت لیا اور آپ سے کہنے لگا مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ نے اس سے فرمایا نہیں۔کہنے لگا پھر کون مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ آپ نے فرمایا اللہ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس کو دھمکایا۔اور نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ نے ایک گروہ کو دو رکھتیں پڑھائیں۔پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔نبی صلی علیم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو۔تقوی اور طہارت نیز شبہات سے اجتناب 108- حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْن مِسْمَارٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْن سَعْدٍ، قَالَ كَانَ سَعْدُ بن أَبي وَقَاصٍ في إبِلِهِ، فَجَاءَهُ ابْتُهُ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَر هَذَا الرَّاكِبِ، فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ