حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 125 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 125

125 حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ عمرہ کے لئے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی۔آپ نے فرمایا میرے بھائی ! ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔عَن عُمر عَنِ النبي صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ يَا أَلِي، لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ يَا أَخِي أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ فَقَالَ عُمَرُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، لِقَوْلِهِ يَا أَخِي (مسند احمد بن حنبل، مسند العشرة المبشرين ، مسند خلفاء الراشدین ، اول مسند عمر بن الخطاب 195) ย حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ عمرہ کے لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی۔آپ صلی میں کم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ ہی فرمایا میرے بھائی ! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا۔اور بعد میں فرمایا میرے بھائی ! اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی شریک کرنا۔حضرت عمرؓ کہتے تھے حضور علی ای کمی کی اس بات سے (کہ ”اے میرے بھائی مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے میں مجھے ساری دنیا مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہو۔97۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول اذا ركب الناقة 3448) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دعائیں بلاشک قبول ہوتی ہیں۔مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی بیٹے کے متعلق دعا۔