حدیقۃ الصالحین — Page 107
107 عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ، فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالُوا يُلْقِحُونَهُ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْقَى فَيَلْقَحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَ فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنَّا فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا، فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قاله شر عا دون ما۔۔۔4342) الله حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی ایم کے ہمراہ بعض لوگوں کے پاس سے گزرا جو کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔حضور صلی نمی کنم نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس کی (pollination) زر پاشی کر رہے ہیں اس کے نر کے زرگل کو مادہ میں ڈالتے ہیں تو وہ بار آور ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا میر اخیال نہیں کہ یہ کچھ فائدہ دیتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ پھر اس بارہ میں لوگوں کو بتایا گیا تو انہوں نے اُسے چھوڑ دیا۔رسول اللہ صلی علی کم کو اس بارہ میں جب بتایا گیا تو آپ نے فرمایا اگر یہ عمل انہیں فائدہ دیتا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ اسے کرتے رہتے۔میں نے تو ایک گمان کیا تھا پس اس گمان پر مجھے پکڑ نہ بیٹھو ، ہاں اگر میں تمہیں اللہ کی طرف سے کچھ بتاؤں تو اسے قبول کرو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی غلط بات تو نہیں کہہ سکتا۔