حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 106 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 106

106 جماعت نظر آئی، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ آپ کی امت ہے اور یہ ان کے آگے جو ستر ہزار ہیں ان کا نہ حساب ہو گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا۔میں نے پوچھا کیوں! جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا، کہ وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے اور نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ شگون لیتے تھے اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے، بن محصن" آپ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان لوگوں میں بنادے آپ نے فرمایا اے اللہ اس کو ان لوگوں میں بنادے، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھ کو بھی ان لوگوں میں بنا دے، آپ نے فرمایا کہ عکاشہ ، تم سے بازی لے گیا۔عکاشہ بن 68 - حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ يُلْقِحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ، قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٍ قَالَ عِكْرِمَةُ أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ الْمَعْقِرِئُ فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُكَ (مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قاله شر عا دون ما۔۔۔4343) حضرت رافع بن خدیج ” بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور لوگ کھجور کی pollination کر رہے تھے۔جس کے لئے یلَقْحُونَ النَّخْل کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔حضور صلی اللہ ہم نے فرمایا یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔حضور صلی الم نے فرمایا شاید اگر تم ایسانہ کرو تو الله سة بہتر ہو۔چنانچہ انہوں نے اسے ترک کر دیا۔پھر پھل جھڑ گیا یا کم ہوا۔راوی کہتے ہیں پھر لوگوں نے حضور صلی للی کم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا میں صرف ایک بشر ہوں۔جب میں تمہارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب میں تمہیں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں محض ایک بشر ہوں۔