حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 88 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 88

88 گئی۔یہاں تک کہ جب ان کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی ٹھوکر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ آیا ان کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں۔پس وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔( یعنی فال میرے خلاف نکلی ) میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو گیا اور پانسے کے خلاف عمل کیا۔گھوڑی سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جا رہی تھی اور اتنا نزدیک ہوگیا کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کو قرآن پڑھتے سن لیا۔آپ ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے اور حضرت ابو بکر کثرت سے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے۔میری گھوڑی کی اگلی ٹانگیں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں اس سے گر پڑا پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گر د اُٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم امن میں ہو۔وہ ٹھہر گئے۔میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ان تک پہنچنے میں جو روکیں مجھے پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ضرور رسول اللہ صلی علیکم کا ہی بول بالا ہو گا۔میں نے آنحضرت صلی للی کمر سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے ان کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کہ لوگ ان سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور میں نے ان کے سامنے زاد اور سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ سے نہ لیا اور نہ مجھ سے کوئی فرمائش کی سوائے اس کے کہ آنحضرت صلی الی یکم نے یہ کہا کہ ہمارے سفر کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا۔میں نے آنحضرت صلی علی کم سے درخواست کی کہ آپ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔آپ نے عامر بن فہیرہ سے فرمایا اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی علیکم روانہ ہو گئے۔ابن شہاب کہتے تھے عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (راستہ میں) حضرت زبیر سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلہ کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آرہے تھے۔حضرت زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل پڑے ہیں اس لئے وہ ہر صبح حرہ میدان تک جایا کرتے اور وہاں آپ کا انتظار کرتے رہتے۔یہاں تک کہ دو پہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی۔ایک دن ان کا بہت دیر جو انتظار کرنے کے بعد