حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 87 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 87

87 يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرٍ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ المَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، فَقَالاً لَا ، بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا، وَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ وَيَقُولُ، وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّينَ هَذَا الحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرُ، هَذَا أَبَرُ رَبَّنَا وَأَطْهَرُ، وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الأَجْرَ أَجْرُ الآخِرَةُ، فَارْحَم الأَنْصَارَ، وَالمُهَاجِرَهُ فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغُنَا فِي الأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَاةٍ غَيْرَ هَذَا البَيْتِ (بخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبى و اصحابه الى المدينة 3906) ابن شہاب کہتے تھے کہ عبد الرحمن بن مالک مدلجی نے جو کہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے تھے ، بتایا کہ ان کے باپ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے سراقہ بن جعشم سے سنا۔کہتے تھے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایلچی آئے جو رسول اللہ صلی علی یکم اور حضرت ابوبکر ان دونوں میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے لگے ، اس شخص کیلئے جو اُن کو قتل کرے یا قید کرے۔اسی اثنا میں کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سامنے سے آیا اور آکر ہمارے پاس کھڑا ہو گیا اور ہم بیٹھے تھے، کہنے لگا اے سراقہ ! میں نے ابھی سمندر کے کنارے کی طرف کچھ آدمی دیکھے ہیں۔میں سمجھتا ہوں وہی محمد اور اس کے ساتھی ہیں۔سراقہ کہتے تھے کہ میں نے شناخت کر لیا کہ وہی ہیں مگر میں نے اسے کہا وہ ہرگز نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے تھے۔پھر میں اس مجلس میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔اس کے بعد اُٹھا اور گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا میری گھوڑی نکالو، وہ ٹیلہ کے پرے ہی رہے ، وہاں اس کو میرے لئے تھامے رکھو۔چنانچہ میں نے اپنا نیزہ لیا اور اس کو لے کر گھر کے پیچھے کی طرف سے نکلا۔میں نے نیزے کے بھال کو زمین پر رکھا اور اس کے اوپر کے حصہ کو نیچے جھکایا اور اسی طرح اپنی گھوڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔میں نے اس کو چمکایا۔وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے