ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 23 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 23

۲۳ نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق احادیث میں تفصیل آگئی ہے تو یہ جواب درست نہیں کیونکہ تفصیل ایسی ہونی چاہئے جس کی حیثیت متواتر یا متواتر کے قریب ہو۔اور یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو امت میں ہر شخص کو کسی نہ کسی وقت پیش آتی رہتی ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی درست ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی مدینہ میں ایسی عورتیں موجود تھیں جن کا کوئی ولی نہ تھا لیکن آپ نے ان کے نکاح کے لئے کسی کو ولایت کے اختیار نہ سونپے۔حجم : اس آیت کے بیان کرنے کا اصل مقصد ولایت کا حکم بیان کرنا نہیں بلکہ جیسا کہ آیت کی ظاہری عبارت سے معلوم ہو رہا ہے اس کا اصل مقصد مشرکین اور مشرکات سے نکاح کرنے کی حرمت بیان کرتا ہے۔پس آیت کے ظاہری معنوں کے علاوہ مکلف سے کوئی اور معنے کرنا درست نہیں ہے۔ششم : حضرت عائشہ کی جو حدیث بیان کی گئی ہے اس کی صحت اور معنی کی تعیین کے سلسلہ میں فقہاء میں شدید اختلاف ہے اور یہ امرظاہر ہے کہ جس حکم کی صحت وغیرہ کے متعلق اہل علم کا اتفاق نہ ہو اس پر عمل بھی واجب نہیں ہوتا۔پھر اگر ہم یہ بھی تسلیم کرلیں کہ یہ حدیث صحیح ہے تو ہم زیادہ سے زیادہ اس سے یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ وہ لڑکیاں جن کے نکاح کے لئے ولایت شرط قرار دی گئی ہے دیعنی نابالغ لڑکیاں، صرف ان کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔اور پھر اگر یہ بھی تسلیم کر لی جائے کہ یہ حکم تمام عورتوں کے لئے عام ہے تو اس سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے جائز ولی سے اپنے نکاح کے لئے عمومی اجارت حاصل کرلے تو اس ولی کا نکاح کے وقت اصالتاً یا د کا لنا موجود ہونا بھی ضروری ہے دوسرے مذاہب پر ابن رشد کی تنقید ابن رشد دوسرے فریق کے دلائل پر حسب ذیل تنقید کرتے ہیں۔اول -- دوسرا فریق جو آیت فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلُنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ