ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 19
14 یہ فریق دوسری دلیل قرآن مجید کی اس آیت سے پیش کرتا ہے:۔وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدُ مُؤْمِنَ خَيْرٌ من مشرِك وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ اس آیت میں بھی خطاب اولیاء کو ہے اور انہیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشرکوں کو رشتہ نہ دیں۔پس ان ہر دو آیات میں اولیاء کو مخاطب کر کے اپنے حق سے تجاوز نہ کرنے کی تاکید کرنا ان کے حق کی تصدیق کرتا ہے۔وہ احادیث جو یہ فریق اپنی تائید میں پیش کرتا ہے ان میں سے مشہور روایت حضرت عائشہ کی ہے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا اِمْرَ أَي تَكَحَتْ بِغَيْرِ اِذنِ وَلِيْهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ دران دَخَلَ بِهَا فَالْمَهُرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنِ اسْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِى مَنْ لَا وَلَقَ لَدَه امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے قابل قبول قرار دیا ہے۔۲۷ ے اور مشرکوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ( مسلمان عورتیں مت پیا ہو۔اور ایک مومن غلام ایک مشترک (آزاد) سے یقیناً بہتر ہے خواہ وہ تمہیں کتنا ہی پسند ہو (البقرہ ) ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے۔آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے۔پھر فرمایا اگر ایسے نکاح کے بعد وہ شخص اس سے تعلقات زوجیت قائم کرلے تو اس پر حق مہر واجب ہو جاتا ہے۔اور اگر ولایت کے بارہ میں کوئی جھگڑا ہو جائے اور کوئی ولی متعین نہ ہو سکے تو اس صورت میں حائم وقت اس کا ولی ہوگا۔(اس روایت کو نسائی کے علاوہ تمام صحاح نے نقل کیا ہے۔جوالہ منتقی جلد ۵۵) سے اس حدیث کا مضمون محتاج تشریح نہیں ہے اس میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیا ہے۔اور تین دفعہ اس مضمون کو دہرا کر اسکی اہمیت پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ نکاح کے احکام میں کوئی حکم بھی ایسا نہیں ملتا جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یقیہ حاشیہ مت پر ویکھیں