ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page vi of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page vi

عبد العزیز اور ابوعبد الله ماذری سے علم حدیث کی تحصیل اور ابو محمد بن رزق سے فقہ میں کمال حاصل کیا۔اس وقت ملک میں فلسفہ کی تعلیم کا رواج عام تھا۔اس لیئے این رشد کو بھی خاندانی علوم فقہ اور حدیث کی تحصیل کے بعد طب وفلسفہ سیکھنے کا شوق پر ہوا سب سے پہلے مشہور فلسفی ابن باجہ سے فلسفہ پڑھنا شروع کیا۔اور اس کی وفات کے بعد ابوبکرین جزیوں اور ابو جعفر بن ہارون الرقالی کے درس سے طب و فلسفہ کی تکمیل کی تفقہ و حدیث میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ این آلای ر کھتے ہیں کہ ان علوم نہیں اس وقت ملک میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔اسی طرح طلب و فلسفہ میں بھی ان کی ہمسری کا کوئی شخص دھوئے نہ کر سکتا تھا۔کیونکہ ابن باجہ او را بو جعفر الرجالی جیسے ائمہ فن ان کے استاد تھے۔اور ابن الطفیل جیسا لیگانہ روزگار ان کا مربی تحصیل علم کے بعد اب عمل کا وقت آیا۔رفتہ رفتہ ابن رشد نے عملی میدان میں بھی اپنی قاعیت کے جو ہر دکھانے شروع کئے۔اور ان کی علمی شہرت کا چرچہ ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے لگا۔این رشد کو اپنے ایک ہم سبق سامتی ابن الطفیل جسے دربار میں رسائی حاصل تھی کی مدد سے یوسف بن عبد المومن کے دربار میں پذیرائی حاصل ہوئی۔چنانچہ شام میں اس کو اشبیلیہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔شاہ ہو تا شیعہ تک ابن رشد نے طب فلسفہ اور علم کلام میں متعدد کتب تصنیف کیں۔بالآخر شعر میں ابن طفیل کی وفات کے بعد انہیں یوسف بن عبد المومن نے مراکش بلالیا۔اور اسے دربار کا طبیب خاص مقرر کیا۔پھر اسی سال محمد بن مغیث قاضی قرطبہ کی وفات کے بعد ا سے