ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 15
۱۵ ضرور دیتے ہیں کہ جب وہ بالغ ہو جائے تو اسے خبار بلوغ حاصل ہے لہذا اگر اسے وہ نکاح نا پسند ہو تو وہ فسخ نکاح کی درخواست کر سکتی ہے۔امام مالک کے نزدیک و حتی کبھی نابالغہ کا نکاح کر سکتا ہے۔لیکن نا بالغہ کو اس وجہ سے فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہے کہ اس کے سن بلوغ سے قبل اس کا نکاح کر دیا گیا تھا۔کیا فریقین کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے جمہور فقہاء کے نزدیک کسی عیب کی بنا پر فریقین کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہے۔لیکن ابو ٹور کے نزدیک فریقین کو یہ اختیار حاصل ہے۔اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض فقہاء نے نکاح کو ان بیوع کے قائمقام قرار دیا۔ہے جن میں فریقین کو کسی عیب کی وجہ سے فتح بیع کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔اور بعض نے اسے ان بیوع کے قائمقام قرار دیا ہے جن میں فسخ بیع کا اختیار نہیں ہوتا۔ابن رشد یہ کہتے ہیں کہ عقود میں اصل حکم یہ ہے کہ ان میں فسخ عقد کا اختیار نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ کوئی صریح نص اس کی تائید میں موجود ہو۔نیز بیوع میں اختیار کی وجہ یہ ہے کہ انسان دھوکے سے بچ جائے۔اور نکاح میں یہ اندیشہ نہیں ہوتا۔کیونکہ فریقین خوب دیکھ بھال کر نکاح کرتے ہیں۔لہذا نکاح میں خبار عجیب یا خیار روئت باقی نہیں رہتا۔اگر نکاح میں فریقین میں سے کسی ایک کی طرف سے قبول میں تاخیر واقع ہو جائے تو امام مالک کے نزدیک معمولی تاخیر جائز ہے لیکن امام شافعی کے نزدیک تاخیر مطلق جائز نہیں ہے خواہ تھوڑی ہو یا بہت۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک تاخیر قبول سے نکاح باطل نہیں ہوتا۔پس اگر ولی کسی لڑکی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کسی جگہ پڑھ دے اور بعد میں اس لڑکی سے رضا مندی ا خریدار بیچنے والے سے یہ وعدہ لے لے کہ میں یہ چیز اس شرط پر خریدتا ہوں کہ اگر اتنے دنوں کے اندر اندر اس میں کوئی عیب نکل آیا تو مجھے یہ چیز واپس کرنے کا اختیار ہو گا۔سے خریدار کوئی چیز دیکھنے کے بغیر ہی خرید لے اور بیچنے والے سے یہ وعدہ لے لے کہ جب میں اسے دیکھوں گا اگر اس وقت اس چیز میں کوئی عیب ہوا تو مجھے واپس کرنے کا اختیار ہوگا۔