ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxxvii
جو فقہا نے اپنے حالات اور مصالح مکی کے پیش نظر اپنی مشکلات اور دشواریوں کا حال تلاش کیا ہے۔اور ہر ایک نے اس کے جواز کے لئے کوئی نہ کوئی دلیل تلاش کرلی ہے۔پس اس اختلاف کو اختلاف سمجھنا ہی درست نہیں ہے۔ابن قیم نے ان اختلافات کے متعلق نہائت ہی عمدہ فیصلہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ شریعیت کی بنیاد حکمتوں اور لوگوں کی دنیاوی اور اخروی فلاح و یہودہ پر ہے۔اور شریعت کل کی کل انصاف میرا سر رحمت اور حکمت ہے۔پس جس مسئلہ میں انصاف کی بجائے ظلم ہو۔رحمت کی بجائے زحمت ہو۔فائدہ کی بجائے نقصان ہو۔اور عقل کی بجائے بے عقلی ہو۔وہ شریعت کا مسئلہ نہیں ہے" پھر لکھتے ہیں :۔احکام کی تبدیلی اور اختلاف زمان مکان ر اموال نیت اور عادات انسانی کے اختلاف کے ساتھ وابستہ ہے اسی طرح لکھتے ہیں :- و معاشرہ انسانی اور قانون کا باہمی رشتہ نہ جاننے کے باعث لوگوں میں ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔میں نے شریعت اسلامی کا دائرہ بالکل محدود کر دیا ہے۔حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں شریعت میں مصالح انسانی کا سب سے زیادہ لحاظ رکھا گیا ہو۔اس میں ایسی تنگ نظریوں کی گنجائش نہیں ہے " ہے اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ اختلافات ہمارے لئے اس لحاظ سے بھی موجب رحمت ہیں کہ ان لوگوں نے استنبا د مسائل کا طریق اس کے اصول وقواعد وضع کر کے ہمارے لئے آسانی پیدا کر دی ہے۔ہم ان کے وضع کردہ اصولوں سے رمینی لة إعلام الموقعين جلد ملا TA