ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 293
ہوتا ہے۔لہذا ثابت ہوا کہ متلاعین میں سے مرد کا لعان فرقت کے لئے مؤثر ہوتا ہے۔اور مرد کا یعان ہی طلاق کے مشابہ ہوتا ہے۔ان ہر دو کے دلائل امام ابو حنیفہ کے خلاف حجت ہیں۔جو یہ کہتے ہیں کہ بتان کے بعد فرقت کے لئے حکم حاکم کا ہونا ضروری ہے۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ ملامین کے درمیان آنحضرت کے حکم کے تحت جدائی کی گئی تھی۔جبکہ آپ نے اُن کو فرمایا تھا :- " لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا اس سے معلوم ہوا کہ جاگہ کا حکم چدائی کے لئے بھی ضروری ہے جیسا کہ نفس لعان کے جاری کرنے کے لئے ضروری ہے۔جن کے نہ دیک ریحان کے بعد فرقت واجب نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وجه انقلاف جو عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق فرمائی تھی اس میں عجلانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم فرقت سے قبل اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔تو گویا اس جلائی کا سبب بحان نہ تھا بلکہ طلاق تھی۔اس کے علاوہ کسی اور مشہور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کا ارشاد نہیں ملتا۔جس میں آپ نے یحان کے بعد اپنی طرف سے فرقت کا حکم نافذہ فرمایا ہو۔جن کے نزدیک یحان کے بعد فرقت واقع ہو جاتی ہے وہ احادیث کے ظاہر مضموم کی طرف گئے ہیں۔جن میں آپ نے ارشاد فرمایا :- لا سبيل لكَ عَلَيْهَا۔جن سے فرقت کے لئے حکم حاکم کو ضروری قرار دیا ہے۔اُنکے نزدیک بعان ان معاملات کے مشابہ ہے۔جن کے لئے حکیم حاکم ضروری ہے۔مثلاً طلع وغیرہ۔دوسرے فریق کے نزدیک یہ ان معاملات کے مشابہ ہے جن میں حکم حاکم