ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xxix of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxix

ہوئے کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف ان میں سے سب سے زیادہ متبع حدیث، اور امام محمد سب سے زیادہ تفریحی مسائل کا استخراج کرنے والے اور امام نہ فرسب سے زیادہ قیام کرنے والے تھے۔آپ نے امام ابو حنیفہ رح کے شاگردوں میں سب سے پہلے یعنی مسئلہ و میں وفات پائی : حضرت محمد بن حسن بن فرقد ، آپ بچپن سے ہی علم حاصل کرنے لگے اور حدیث کی روایت کی اور امام ابو حنیفہ کے حلقہ درس میں شامل ہوئے۔چونکہ امام ابو حنیفہ رح کا انتقال ان کی کمسنی میں ہی ہو گیا تھا۔اس لئے بقیہ علم کی تکمیل امام ابو یوسف سے کی۔اہم شافعی نے بغداد میں ان سے ملاقات کی۔اور ان کی کتاب میں پڑھیں۔اور بہت سے مسائل میں ان سے مناظرہ کیا۔ان دونوں کے مناظر سے مدون طور پر اب تک موجود ہیں۔آپ نے شہرم میں وفات پائی۔حضرت حسن بن زیاد تو لوٹی۔پہلے امام ابو حنیفہ کے شاگرہ ہوئے۔آپ کے بعد امام ابو یوسف کے پھر امام محمد کے شاگرد ہوئے۔آپ نے بھی امام ابو حنیفہ ان کے مذاہب میں کتب تصنیف کیں لیکن امام محمد کی کتب کی طرح مقبول نہ ہوئیں۔آپ نے سنہ میں وفات پائی۔۔حضرت ابو عبد الله عبد الرحمن ابن القاسم امام مالکٹ کی صحبت میں رہے اور ان سے حدیث و فقہ کا علم حاصل کیا۔ایک دفعہ امام مالک سے ان کے اور ابن وہب کے متعلق سوال کیا گیا۔تو آپ نے فرمایا ابن ہب عالم اور ابن القاسم نقیہ ہیں۔خود ابن وہب نے ابو ثابہت سے بیان کیا۔کہ اگر تم امام ماکت کی فقہ چاہتے ہو۔تو ابن القاسم کی صحبت اختیار کرو۔کیونکہ وہ صرفت انہی کی صحبت میں رہے ، اور ہم نے دوسروں سے بھی فائدہ اٹھایا۔آپ نے ہ میں وفات پائی۔حضرت اشہب بن عبد العزیز آپ نے امام مالک اور مانی اور مصری عملہ سے فقہ کی ۲۷