ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 247 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 247

۲۴۷ عورت کو جس ضرر سے بچانا مقصود تھا اس سے وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔کیونکہ اس طرح اس کا خاوند دوبارہ اسے تنگ کرنے کے لئے ایلاء نہیں کرے گا اور ندہ اس کے ساتھ تعلق قائم کرے گا جس سے وہ کا معتلقہ ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ امام مالک نے یہ کہا ہے کہ طلاق خواہ کسی قسم کی ہو رجوع کے بعد اس پر امیلا کا حکم پھر عود کر آئے گا۔خواہ وہ دوبارہ قسم کھائے یا نہ کھائے۔آٹھواں اختلاف یہ ہے کہ وہ عورت جس سے ایلاء کیا گیا ہو اس کی لئے ایلاء کی عدت بھی گزارنا ضروری ہے یا نہیں ؟ ہے۔اس کے متعلق جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لئے عدت گزار ناضروری جابر بن زید کا مذہب یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے عرصہ میں اسے تین حیض آ جائیں تو اس صورت میں اسے مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ چار ماہ گزارنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس کا بھی یہی مذہب تھا۔ان کی دلیل یہ ہے کہ عدت کی غرض تو یہ ہے کہ اس عرصہ میں اس کا رحم حمل وغیرہ سے صاف ہو جائے اور یہ غرض تین حیض آنے سے پوری ہو چکی ہے۔اس لئے مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے۔جمہور کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ وہ ابھی ایک مطلقہ ہے اس لئے وہ دیگر مطلقہ عورتوں کی طرح عدت گزار نے گی۔وجد اختلاف عدت میں عبادت اور مصلحت دونوں اغراض موجود ہیں جس نے مصلحت کی جہت کو ملحوظ رکھا اس کے نزدیک اسے مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے جس نے عبادت کی بہت کو ملحوظ رکھا اس کے نزدیک اسے عدت گزارنی چاہیئے۔عدت کو عبادت اس لیے کہا گیا ہے کہ عدت گذارنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ہے اس لئے اس جسکم