ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 243 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 243

۲۴۳ طلاق دے کی تو واقع ہوگی نہ دے گا تو نہ ہوگی۔امام ابو حنیفہ نے جو محض توقف اور ترقی کو بھی طلاق کے قائمقام قرالہ دیا ہے یہ مجازا ہے اور حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کو اختیار کرنا سوائے قطعی دلیل کے جائز نہیں ہے۔اور اس جگہ ایسی کوئی قطعی دلیل اس امر کی پائی نہیں جاتی میں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم آیت کے ظاہر مفہوم کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جائیں۔سوم:- اللہ تعالیٰ نے آیت وَإِنْ عَدَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ میں یہ بتایا ہے کہ طلاق مسموع ہونی چاہیئے۔اور مسموع طلاق الفاظ سے ہی ہوتی ہے چونکہ صرف مدت کا گزر جانا سمیع سے تعلق نہیں رکھتا اس لئے یہ طلاق کی وجہ نہیں بن سکتی۔چہارم : اللہ تعالیٰ کے ارشاد خان فَارُهُ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِیمیں ظاہر الفاظ میں ہی تعقیب کا مفہوم شامل ہے۔کیونکہ ”ف“ ایک حکم کے بعد دو سر حکم کے لئے آتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ رجوع یا طلاق دینے کا اختیار مدت ایلاء کے گزر جانے کے بعد ہے۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ چار ماہ کی عدت در حقیقت طلاق رجعیہ کی عدت کے مشابہ ہے۔جس طرح طلاق رجعی میں عدت کی مدت اس لئے رکھی گئی ہے تا اس عرصہ میں خاوند نادم ہو کر رجوع کرے۔اور اگر وہ رجوع نہ کرے تو اس کے بعد وہ رجوع نہیں کر سکتا۔اور طلاق بائن ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایلاء بھی طلاق رجعی کے مشابہ ہے لہذا اسے اختیار ہے کہ خواہ وہ اس عرصہ میں رجوع کرے خواہ اس کے بعد اسے طلاق یافتہ تصور کرے۔حضرت ابن عباس سے بھی اسی قسم کی روایت مروی ہے۔دوسرا اختلاف یہ ہے کہ کس قسم کی قسم ایلاء کے لئے موخر ہوگی ؟ امام مالک کے نزدیک ہر قسم کی قسم ایلاء کے لئے کافی ہے۔امام شافعی کے نزدیک صرف ان قسموں سے ایلاء ہو سکتا ہے جو شریعت