ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 236
۲۳۶ جائے کہ میاں بیوی کے درمیان تفریق کردی جائے تو ان کا یہ فیصلہ نافذ ہوگا ن نہیں؟ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ خواہ زوجین نے ان کو اپنی طرف سے مقرر کیا ہو یا نہ کیا ہو مصالحت یا تفرقہ دونوں امور کے متعلق ان کا فیصلہ نافذ احمل ہوگا۔امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ان کا فرقت کا فیصلہ نافذ العمل نہ ہوگا سوائے اس کے کہ خاوند نے ان کو اس کا اختیار دیا ہو۔امام مالک کی دلیل حضرت علی کا مذہب ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی مصحات کنندگان کو ان ہر دو امور کا اختیار ہے خواہ خاوند نے ان کو اس کا اختیار دیا ہو یا نہ دیا ہو۔امام ابو حنیفہ اور امام شافتی کی دلیل یہ ہے کہ طلاق کا اختیار سوائے خاود کے اور کسی کو نہیں دیا گیا سوائے اس کے کہ خاوند خود کسی کو اس کا اختیار دیدے۔امام مالک کے اصحاب میں اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر مصالحت کنندگان عورت کو تین طلاقیں دے دیں تو کتنی طلاقیں واقع ہونگی ؟ ابن القاسم کے نزدیک ایک طلاق واقع ہوگی۔اشہب اور مغیرہ کے نزدیک تین طلاقیں ہی واقع ہونگی۔این رشد اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ طلاق کا اختیار صرف خاوند کے پاس ہے سوائے اس کے کہ اس کے خلاف کوئی صریح دلیل ہو۔امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی دلیل حضرت علی کی روایت ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک تنازعہ کے سلسلہ میں مصالحت کنندگان کو مخاطب کر کے فرمایا :- آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سپرد کیا ذمہ داریاں ہیں اگر آپ دیکھیں کہ ان دونوں کے درمیان صلح بہتر ہے تو صلح کرا دیں اور اگر دیکھیں کہ ان کے درمیان جدائی بہتر ہے تو جدائی کرا دیں۔اس پر صورت نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے پیش کر وہ احکام پر راضی ہوں اور اس کے پیش کر وہ احکام