ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 235
۲۳۵ دے سکیں وہ ضرور دیں۔پس اگر متعہ واجب ہوتا تو اس طرح ترغیب کے الفاظ وارد نہ ہوتے۔مصالحت کنندگان کا تقرر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان تنازعہ ہو جائے تو مصالحت کنندگان ان کے احوال معلوم کریں اور ان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَانْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا من اهلها اس پر بھی سب کا اجماع ہے کہ یہ مصالحت کنندگان میاں اور بیوی کے خاندان میں سے ہونے چاہیے یعنی ایک میاں کے خاندان سے ہو اور دوسرا بیوی کے خاندان سے ہو۔سوائے اس کے کہ ان کے خاندان سے ایسے افراد نہ مل سیکیں تو ایسی صورت میں باہر سے بھی لئے جاسکتے ہیں۔اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ یہ مصالحت کنندگان اگر کسی نتیجہ تک نہ پہنچیں اور ان کے درمیان بھی اختصاصات ہو جائے تو ان کا فیصلہ نافذ نہ کیا جائے گا۔اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ مصالحت کنندگان کا یہ فیصلہ کر میان بیوی اپنے اختلافات مٹا کر صلح کرلیں تو ان کا فیصلہ قابل نفاذ ہوگا۔خواہ ان کو زوجین نے اپنی طرف سے مقرر نہ کیا ہو۔بلکہ ان کے خاندان کے دوسرے افراد نے مقرر کیا ہو۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر مصالحت کنندگان کا اس امر پر اتفاق ہو ے ترجمہ :۔اور اگر تمہیں ان دونوں ریعنی میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تفرقہ کا خوف ہو تو ایک پہنچ اس کے (یعنی مرد کے رشتہ داروں سے اور ایک پہنچ اس کے ویعیقی عورت کے رشتہ داروں سے مقریر کرو۔(نسار)