ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 223
۲۲۳ گزاری۔امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح وہ نماز کے لئے اندازہ کر لیتی ہے اسی طرح عدت گزارنے کے لئے بھی اندازہ کر سکتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مستحائضہ کو ارشاد فرمایا تھا۔اتركي الصلوة أيَّامَ اقْرَاءِكِ فَإِذَا ذَهَبَ عَنْكِ قَدْرُهَا فَاغْسِلى الدم به اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت جیش کو ارث او فرمایا :- إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَامْسِكِى عَنِ الصَّلوةِ فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَكَّي وَصَلَّى فَإِنَّمَا هُوَ عِرف له جن لوگوں نے مستحاضہ کے لئے مہینوں کے حساب سے عدت گزارنے کا حکم دیا ہے وہ اس مستحاضہ کے متعلق ہے جس کے خون حیض اور خونِ استحاضہ میں تمیز نہ ہو سکے کیونکہ خون کا انقطاع اور خون میں تمیز نہ ہونا دونوں برابر ہیں اس لئے دونوں کا ایک ہی حکم ہونا چاہیئے۔وہ عورت جس کو حمل کا شبہ ہو اس کی عدت کا حکم یہ ہے کہ وہ وضع حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت تک انتظار کرے۔بعض کے نزدیک یہ مدت چار سال ہے اور بعض کے نزدیک پانچ سال۔اہلِ ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ وہ نو ماہ تک انتظار کرے۔اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔له ترجمہ :۔تو حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے اور جب حیض کے ایام کی مقدار گزر جائے تو غسل کر کے خون کو صاف کرئے۔ه ترجمه :- جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے جب اس قسم کا خون ہو تو تم نماز سے رک جاؤ اور جب دوسرے رنگ کا خون ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو کیونکہ وہ ایک رگ ہے (جو پھوٹ رہی ہے) (ابو داؤد باب من قال توضاً لكل صلوة )