ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 219
۲۱۹ کہ یہ آیت اس بارہ میں مجمل ہے۔لہذا اس کے متعلق دیگر دلائل کی تائید صل کرنی چاہیئے۔پس وہ لوگ جو قرء کے معنے ہر لیتے ہیں وہ اس کے متعلق تائیدی دلیل حدیث ابن عمرہ کو پیش کرتے ہیں جیں میں آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے۔مرْهُ فَلْيُرَا جِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلَّقَهَا إِنْ شَاءَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ التِي أَمَرَ اللهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءِ له اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ طلاق اس جگر میں دینی چاہئے جس میں مناجات نہ کی گئی ہو اور یہی طلاق سنت ہے۔اور آپ کے الفاظ فَتِلْكَ الْعِدَةُ الَّتِي الحر سے ظاہر ہے کہ عدت اظہار کے ذریعہ ہوگی تاکہ طلاق عدت کے ساتھ متصل ہو۔"فَتِلْكَ الْعِدةُ " کے الفاظ کا ایک یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ فتلك مُدَّةٌ اِسْتِقْبَالِ الْعِلَ : " کہ یہ مدت وہ ہے جس میں فوری طور پر عدت شروع ہو جاتی ہے۔پس اگر عدت حیض سے شروع کی جائے تو آپ کے الفاظ کا یہ مفہوم ساقط ہو جاتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں ایام عدت اور طلاق میں وقفہ پڑ جاتا ہے اور وہ دونوں متصل نہیں رہتے۔دوسرے فریق کی تائیدی دلیل یہ ہے کہ عدت کا مقصد یہ ہے کہ عورت کا رحم طلاق دینے والے کے حمل سے صاف ہو جائے۔ظاہر ہے کہ یہ مقصد حیض سے پورا ہوتا ہے ظہر سے نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ آئستہ اور نابالغہ کی عدت حیض کی بجائے مہینوں سے ہوتی ہے۔پس جب حیض ہی عزت کی لے ترجمہ : اس کو حکم دیں تاکہ وہ طلاق سے رجوع کرے، یہاں تک کہ اس کی بیوی کو حیض آئے پھر پاک ہو پھر حیض آئے پھر پاک ہو اس کے بعد اگر چاہے تو مجامعت کرنے سے قبل اس کو طلاق دے۔کیونکہ یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ عورتوں کو عدت گزارنے کے لئے طلاق دو۔(مسلم باب تحریم طلاق الحائض) کے اس جگہ آئسہ سے مراد وہ عورت ہے جو ایسی عمر تک پہنچ جائے جبکہ اسے حیض نہ آئے۔