ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 216
۲۱۶ وَى يَبِسنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَا بِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ (طلاق غ) لفظ قرء کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ فقہار کی ایک جماعت کے نزدیک یہ ظہر کا وہ زمانہ ہے جو دو جینوں کے درمیان آتا ہے۔یہ مذہب فقہاء میں سے امام مالک اور امام شافعی اہل مدینہ اور ابوتون کا ہے۔اور صحابہ میں سے ابن عمر۔زید بن ثابت اور حضرت عائشہ کا ہے۔بعض کے نزدیک قوم سے مراد حیض ہے۔یہ مذہب امام ابو حنیفہ ثوری رح اوزاعی اور ابن ابی لیلیٰ کا ہے۔اور صحابہ میں سے حضرت علی عمر بن الخطاب ابن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری کا ہے۔اریم نے امام احمد سے روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کبار کہا کرتے تھے کہ قرء حیض کا نام ہے۔شعبی نے بیان کیا ہے کہ یہ مذہب صحابہ میں سے گیارہ بارہ کبار صحابہ کا تھا امام احمد کے متعلق ایک روایت یہ ہے کہ پہلے وہ کہا کرتے تھے کہ قرء کے منے ظہر ہے۔کیونکہ زید بن ثابت - ابن عمرہ اور عائشہ کا یہ مذہب ہے لیکن اس کے بعد جب ان کو حضرت علی۔اور ابن مسعود کا یہ مذہب معلوم ہوا کہ قدء سے مراد حیض ہے۔تو انہوں نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا۔ان ہر دو مذاہب میں فرق یہ ہے کہ جن کے نزدیک قرء ظہر ہے ان کے نزدیک جب عورت طلاق کے بعد تیسرے حیض میں داخل ہو جاتی ہے تو اس وقت اس کے خاوند کو رجوع کا اختیار نہیں رہتا۔اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔جن کے نزدیک اس کے معنے حیض کے ہیں ان کے نزدیک جب تک تیسرا ا ترجمہ :۔اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کی عدت کے متعلق تمہیں سفہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔(طلاق غ )