ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 193 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 193

۱۹۳ امام ابو حنیفہ نے طلاق اور بیع میں فرق اس لئے کیا ہے کہ ان کے نزدیک طلاق فتوی دیا ہے کہ جبری طلاق صحیح نہیں ہوتی۔چنانچہ امام شعرانی نے اپنی کتاب کشف الغمہ میں اس کے متعلق صحابہ کے اقوال نقل کئے ہیں :- حضرت این خیاس کے متعلق لکھا ہے۔وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يَقُولُ طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَالْمُسْتَكْرَةِ لَيْسَ بِجَائِرٍ ترجمہ : حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ مدہوش اور مجبور کی طلاق جائز نہیں ہے امام شعرانی نے جبر کی صورتیں بھی نقل کی ہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں :- وكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يَقُولُ مَنْ أَكْرَهَتْهُ اللصُوصُ عَلَى الطَّلَاقِ فَطَلَّقَ تميَقَعُ وَ كانَ يَقُولُ الْجُوعُ الوَاةَ وَالْوَثَاقُ إِكْرَاةُ وَالشَّرْبُ والحَيْسُ إِكْرَاةَ وَالْوَعِيدُ الْرَاهُ ترجمہ :۔حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے جس کو چور اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس پر وہ طلاق دیدے تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔اسی طرح آپ فرماتے تھے۔بھوکا رکھنا بھی جبر ہے۔ہاتھ پاؤں باندھنا بھی جبر ہے۔مارنا اور قید کرنا بھی جبر ہے قتل وغیرہ کی دھمکی دینا بھی جیبر ہے۔یعنی ان صورتوں میں طلاق دی ہوئی جہری طلاق کہلائے گی۔اور واقع نہ ہوگی۔حضرت ابن عمر نے ایک عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نَزَلَ رَجُلُ الْبَثْرَ فِي حَبْلٍ فَجَاءَتِ امرأَتُهُ فَجَلَسَ عَلَى الْحَيْلِ وَكَانَتْ تُكْرِهَهُ فَقَالَتْ طَلِقَنِي ثَلَاثًا وَإِلَّا قَطَعْتُ الحَيْلَ بِكَ فَذَكَرَهَا اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ فَأَبَتْ فَطَلَّقَهَا ثَلَاقًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلى أَهْلِكَ فَلَيْسَ هَذَا بِطَلَاقِ۔ترجمہ: حضرت ابن عمر ر بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص ایک رہتی کے ذریعہ کنوئیں میں اُترا اس کی بیوی آئی جو اسے نا پسند کرتی تھی وہ رہتی پر بیٹھ کر کہنے لگی کہ مجھے تین طلاقیں دو ورنہ میں رتی کو کاٹتی ہوں انکی خاوند نے اسے اللہ تعالے اور اسلام کا واسطہ دیا لیکن وہ نہ مانی بالآخر اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔پھر وہ شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور یہ قصہ سنایا۔آپ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر چلے جاؤ یہ طلاق نہیں ہے۔بعض لوگ اس فتویٰ کے خلاف حضرت ابو ہر برٹا کی یہ روایت پیش کرتے ہیں :- (بقیہ حاشیہ عله اپر)