ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xxiii of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxiii

گیا۔تو آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔اور مقدمات کے فیصلے بغیر کسی رعایت کے کرتے رہے۔اس سے ان لوگوں میں سکھنی پیدا ہوگئی۔اور وہ در پردہ آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔مین میں آپ کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔اور لوگ آپ کی قوت استدلال اور تنتحر علمی سے بہت متاثر تھے۔چونکہ آپ دیگر عمال کو رشوت ظلم اور جانبداری سے روکنے رہتے تھے۔اس لئے مطرف نے جو ایک عامل تھا بصیغہ راز خلیفه هارون الرشید کو ایک خط لکھا کہ مین میں شافعی کا بہت اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے۔اور ملک میں سارا کا خاندان پھر خلافت کے خواب دیکھ رہا ہے۔شافعی چونکہ خود ہاشمی ہے۔اس لئے اس کی اعانت پی در پردہ سادات کو حاصل ہے۔یہ خط دیکھتے ہی خلیفہ ہارون الرشید آگ بگولا ہو گیا۔اور فوراً حماد بریری کے نام بصیغہ را از خط لکھوایا کہ محمد بن ادریس شافعی اور تمام سادات کو گرفتار کر کے دارالخلافہ میں بھیجو۔اس حکم کی تعمیل ہوئی خلیفہ نے محکم دیا کہ دس دس سید روزانہ قتل کئے جائیں۔چنانچہ جب آپ کی باری آئی۔تو آپ نے ایسی موثر اور پر در و تقریر فرمائی کہ خلیفہ کانپ اٹھا۔اور اسی وقت آپ کے قتل کے حکم کو منسوخ کر کے حراست میں رکھے جانے کا حکم صادر کیا۔اسی اثنا میں امام شافعی کے ایک علمی مباحثہ کی تفصیل خلیفہ کے سامنے پیش کی گئی جب خلیفہ نے امام صاحب کے دلائل سنے تو اللہ کر بیٹھ گیا۔اور دوبارہ سنانے کا حکم دیا۔دوبارہ بنکر کہنے لگا۔کہ واقعی محمد بین اور میں محمد بن حسن سے زیادہ عالم میں۔برقمہ کو حکم دیا کہ پانچ سو دینار شانٹی کو بطور انعام دیئے جائیں۔ہر شہ نے اپنی طرف سے پانچ سو دنیا ر شامل کر کے ایک ہزار دنیار امام شافعی کے نذر کئے۔اور اس کے بعد آپ سے نگرانی اتحادی گئی۔مصر امام شافعی کے مذہب کا مرکز تھا۔کیونکہ آپ نے اس ملک میں اپنے مذہب کو رواج دیا۔اور آپ کے اکثر شاگرد اور ناشرین مذہب بھی نہیں گزارے ۲۱