ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 148
۱۴۸ پس اگر تین طلاقیں سنت نہ ہوتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خاموش نہ رہتے بلکہ اسی وقت عجب لانی کو یہ بتاتے کہ طلاق دینے کا یہ طریق درست نہیں ہے۔امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کو طلاق سنت قرار دینے سے وہ رخصت فوت ہو جاتی ہے۔جس کا لحاظ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے احکام میں رکھا ہے۔نیز امام مالک نے مذکورہ بالا روایت کا یہ جواب دیا ہے کہ عجلانی نے لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں۔چونکہ اس کی بیوی یکان سے ہی بائن ہو گئی تھی اس لئے اس کے بعد طلاق دینے کا کوئی مطلب ہی نہ تھا۔لہذا اس طلاق کے متعلق یہ بحث کرنا کہ وہ طلاق سنت تھی یا بدعت بالکل بے سود ہے۔ابن رشد فرماتے ہیں کہ اس بارہ میں امام شافعی کے مسلک سے امام مالک کا مسلک زیادہ واضح اور درست ہے معلوم ہوتا ہے۔حیض میں طلاق جمہور کا مذ ہب یہ ہے کہ حیض میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے۔لیکن ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ ایسی طلاق نافذ نہیں ہوتی۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حیض میں دی ہوئی طلاق نافذ ہو جاتی ہے ان کے نزدیک اسے رجوع کا حکم دیا جائے گا۔اس طلاق میں رجوع کرنے کے مسئلہ میں بھی دو گروہ ہیں :- ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ رجوع کرنا واجب ہے۔لہذا اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ رجوع کرے۔یہ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے۔دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ رجوع کرنا بہتر ہے اس لئے رجوع پر مجبور نہ کیا جائے گا فر تحریک کی جائے گی۔یہ امام شافعی - ابوحنیفہ - ثوری اور احمد کا مذہب ہے۔جن لوگوں کے نزدیک رجوع کرنا واجب ہے۔ان میں پھر یہ اختلاف ہے کہ رجوع س وقت ہوگا۔امام مالک اور اس کے اکثر اصحاب کے نزدیک عدت ختم ہونے سے قبل اسے نے اس بارہ میں امام مالک کا مسلک ولائل کے لحاظ سے زیادہ قوی اور درست ہے۔