ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 138 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 138

۱۳۸ اس آیت سے معلوم ہوا کہ طلاق رجعی اس حالت میں دی جاتی ہے جبکہ بیوی سے تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں ورنہ اگر یہ تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں تو پھر نہ عدیت کے گنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جس بیوی سے ابھی صحبت نہ ہوئی ہو اور طلاق ہو جائے تو اس کے لئے کوئی عدت نہیں ہے۔طلاق رجعی کے ثبوت کے لئے حضرت ابن عمر کی روایت بطور نص کے ہے اور و یہ ہے: أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ زَوْجَتَهُ لَمَّا طَلَّقَهَا حَائِضًا طلاق بائن طلاق بائن تین امور کی بناء پر ہوتی ہے۔(۱) مجامعت سے قبل طلاق (۲) متفرق اوقات میں تین طلاقیں۔(س) عورت کی طرف سے حوض کی ادائیگی کی بنا پر طلاق۔تعداد کے لحاظ سے تین طلاقین جو آزاد عورت کو متفرق اوقات میں دی گئی ہوں طلاق بائن کا حکم رکھتی ہیں۔ot اس کا استدلال اللہ تعالے کے اس ارشاد سے کیا گیا ہے۔الطَّلَاقُ مَرَّتْنِ فَإِمْسَاكُ بِمَعْرُونِ أَوْ تَمْرِيعَ بِإِحْسَانٍ فَاِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَة اگر تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دی جائیں تو اس کے متعلق اختلاف ہے جمہور کا اس امر پر اتفاق ہے۔کہ غلامی سے طلاق کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔اور لونڈی کے لئے طلاق بائن کی طلاق دو طلاقیں ہیں۔لیکن اس بارہ میں اختلاف ہے کہ غلامی جس کی وجہ سے طلاق کی تعداد میں کمی اه ترجمه - کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عمر کو جبکہ اس نے اپنی حائضہ بیوی کو طلاق دی تھی یہ ارشاد فرمایا کہ وہ اس سے رجوع کرے۔(مسلم باب تحریم طلاق الحائض) ترجمہ : ایسی طلاق جس میں رجوع ہوس کے دو دفعہ ہو سکتی ہے پھر یا تو مناسب طور پر روک لینا ہوگا۔یا حسین سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہوگا۔۔۔۔پھر اگر اوپر کی بیان کردہ دو طلاقوں کے گزر جانے کے بعد بھی خاوند اسے تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے جائز نہ ہوگی جب تک کہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے خاوند کے پاس نہ جائے۔(نفروع ۲۹)