ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 129 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 129

۱۲۹ کہ یہ حرام ہے۔البتہ حرمت کے وقت کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک یہ حرمت غزوہ خیبر میں نازل ہوئی۔بعض کے نزدیک یو ف فتح کے دن۔بعض کے نزدیک غزوہ تبوک کے دن۔بعض کے نزدیک حجۃ الوداع کے موقعہ پر۔اور بعض کے نزدیک عمرۃ القضاء کے موقعہ پر۔اکثر صحابہ اور تمام فقہاء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔لیکن حضرت ابن عباش کا مشہور مذہب یہ ہے کہ یہ جائز ہے۔اور حضرت ابن عباس کے اس قول کی اتباع ان کے کئی اصحاب اور اہل یمین نے کی ہے۔اور اس بارہ میں حضرت ابن عباس ے نکاح متعہ کے متعلق متواتر اور مشہور روایات سے یہ ثابت ہے کہ یہ حرام ہے۔اور اس کی حریمت کی روایات تمام محدثین نے نقل کی ہیں۔مسند امام احمد اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کے متعلق یہ الفاظ منقول ہیں۔آ إِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ ذلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ حضرت ابن عباس کا جو یہ مذہب بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اسے جائز قرار دیتے تھے تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو پہلے پہلے حرمت کے احکام کا علم نہ تھا بعد میں جب ان کو اس کے متعلق یقینی طور پر معلوم ہو گیا تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔چنانچہ امام ابن قیم اپنی کتاب تہذیب استن میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس شروع شروع میں ضرورت اور حاجت کے وقت متعہ کو جائز قرار دیتے تھے۔لیکن بعد میں جب لوگوں نے کثرت سے آپ کو حرمت کے احکام کے متعلق اطلاع دی تو آپ نے اپنے پہلے خیال سے رجوع فرما لیا۔اسی طرح علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن جبیر نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔اور کیا فتوی دے رہے ہیں۔اب تو آپ کے فتویٰ کے متعلق بھی عجیب و غریب اشعار لکھنے لگے ہیں۔اس پر حضرت ابن عباس نے فرمایا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وَاللهِ مَا بِهَذَا أَنْتَيْتُ وَلَا هَلَ أَرَدْتُ وَلَا احْلَلْتُ إِلَّا مِثْلَ ما اللَ اللهُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا يَحِلُّ إِلَّا لِلْمُضْطَى وماهي الاكا لمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ یعنی اس کے جواب میں حضرت ابن عباس نے انا للہ وانا اکیوراجِعُونَ پڑھا اور کہا کہ خدا کی قسم کہتے یہ فتوی نہیں دیا اور نہ میرا ارادہ تھا۔اور کتنے جو اس کو جائز قرار دیا ہے وہ صرف اسی طرح ہے میں طرح و بقيه اپر)