ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 128 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 128

۱۲۸ نہیں وارد ہوئی ہے۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر ایسا نکاح ہو جائے تو مہر مثل مقرر کرنے سے یہ نکاح صحیح ہو جاتا ہے یا نہیں۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک ایسا نکاح صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے فسخ ہو جاتا ہے۔لیکن امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر ایک لڑکی کا ہر مقرر کیا گیا ہو یا دونوں لڑکیوں کا مہر مقرر کیا گیا ہو مگر وہ مہر مثل سے کم ہو تو اس صورت میں مہر مثل مقرر کیا جائے گا۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک نکاح شغار کے بعد اگر مہر مثل مقرر کر لیا جائے تو اس صورت میں نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔یہی مذہب امام احمد - لیٹ " اسحاق ابو ثور اور طبری کا ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک یہ بہی مہر مقرر نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔اور بعض کے نزدیک اس قسم کا نکاح کلیتہ ممنوع ہے۔خواہ اس میں مہر مقمریہ ہو یا نہ ہو۔جن کے نزدیک ایسا نکاح کلینہ ممنوع ہے ان کے نزدیک یہ ہر حالت میں قابل فسخ ہوگا۔جن کے نزدیک یہ مہر مقررہ نہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے ان کے نزدیک اگر ایسے نکاح کے بعد مہر مثل مقرر ہو جائے تو نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔جیسے فاسد نکاح ہر مثل مقرر کرنے سے صحیح ہو جاتا ہے۔یعنی اگر کیسی نکاح میں حق مہر میں شراب یا کوئی اور حرام چیز مقرر کی گئی ہو یا مطلقا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اس میں مرشل مقرر کرنے سے نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔نکاح متعہ نکاح متعہ یہ ہے کہ ایک معین مدت تک کسی معین رقم کے عوض نکاح کرنا۔اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر روایات وارد ہوئی ہیں سی