ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 121 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 121

نفقہ ہے۔اور اگر خاوند اپنی بیوی کے پاس آتا ہے تو اس کے لئے نفقہ نہیں ہے۔(۴)، ایک قول یہ ہے کہ اگر خاوند آزاد ہے تو اس پر نفقہ ہے اور اگر غلام ہے تو اس پر نفقہ نہیں ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ عمومی حکم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے نفقہ دیا جائے۔اور قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے نفقہ نہ دیا جائے۔عمومی محکم تو وہی ہے جو اوپر کی روایت میں گذر چکا ہے۔اور قیاس یہ ہے کہ لونڈی اپنے آقا کی خدمت کرتی ہے اس لئے یہ کس طرح سیرت ہو سکتا ہے کہ وہ خدمت تو اپنے آقا کی کرے۔اور اخراجات اپنے خاوند سے لے جس کے پاس وہ آزادانہ طور پر آ جا بھی نہیں سکتی۔ہاں قیاس اس امر کی اجازت دے سکتا ہے کہ اس کا نفقہ اس کا مالک اور اس کا خاوند دونوں مل کر دیں۔کیونکہ خدمت وہ اپنے آقا کی کرتی ہے۔اور تعلقات زوجیت اپنے خاوند سے قائم کرتی ہے۔اس لئے دونوں نصف نصف اخراجات ادا کریں۔یہی وجہ ہے کہ ایک گروہ کا یہ مذہب بھی ہے کہ جب وہ اپنے خاوند کے پاس آئے تو اس کا نفقہ ا اس پر ہے اور جب اپنے آقا کے پاس جائے تو اس وقت اس کا نفقہ اس کے آتا پر ہے۔اسی وجہ سے ابن حبیب کہتے ہیں کہ اس کے آقا کو چاہیے کہ وہ اسے ہر چارہ یوم کے بعد ایک دن کے لئے اپنے خاوند کے پاس جانے کی اجازت دے۔قہ کس قسم کے خاوند اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ نفقہ آزا د خاوند پر واجب ہے۔فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔پر واجب ہے۔جو اپنی بیوی کے پاس موجود ہو لیکن غلام اور غائب خاوند کے نفقہ کے متعلق ابن المنذر کہتے ہیں کہ جس قدر اہل علم کا مجھے علم ہے وہ سب غلام پر نفقہ کو