ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 106 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 106

1۔4 وسَلَّمَ عَلَى نِكَاحِهِ - قَالُوا وَكَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ اِسلام امْرَأَتِهِ نَحْو مِنْ شَهْرٍ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک بھی روایت ایسی نہیں پہنچی۔کہ ایک عورت اسلام قبول کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ہو۔اور اس کا خاوند کفار کے ملک میں کفر کی حالت میں ہو مگر آپ نے ان دونوں کے نکاح کو فسخ قرار نہ دیا ہو۔سوائے اس کے کہ اس کی عدت گزارنے سے قبل اس کا خاوند بھی مسلمان ہو کر آجائے۔اگر خاوند اپنی بیوی سے قبل اسلام قبول کرے تو اس بارہ میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں اس عورت کے سامنے اسلام پیشش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرے تو ان کا نکاح فسخ کیا جائے گا۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ خواہ عورت مرد سے قبل اسلام قبول کرے یا مرد عورت سے قبل اگر بعد میں اسلام قبول کرنے والا عدت کے عرصہ کے اندر مسلمان ہو گا تو ان کا نکاح قائم رہے گا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن مجیک عام حکم حدیث اور قیاس سے باہم متعارض ہے۔قرآن مجید کا عام حکم یہ ہے : وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ یہ حکم فوری طور پر فدائی کی تائید کرتا ہے۔لیکن روایت جو اس حکم کے خلاف آئی ہے وہ یہ ہے۔أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ أَسْلَمَ قَبْلَ هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ امْرَأَتِهِ وَكَانَ إِسْلَامُهُ بِمَةِ الظَّهْرَات ثمَّ رَجَعَ إِلى مَكَةَ اہ ترجمہ : صفوان بن امیہ کی بیوی عاتکہ نیت ولید بن مغیرہ نے اسلام قبول کیا اور اس کے بعد صفوان نے اسلام قبول کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلے نکاح کو بحال رکھا۔کہتے ہیں کہ ان دونوں کے اسلام میں قریباً ایک مہینہ کا وقفہ تھا۔(منتقی جلد۲ ص۵۲)