ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 101 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 101

: : : 1-1 جو لوگ حضرت عمر کے اس فتویٰ کے خلاف ہیں وہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود کی روایت کو لیتے ہیں جو حضرت عمرہؓ کی روایت کے خلاف ہے۔علامہ ابن رشد کہتے ہیں کہ صحیح تو یہ ہے کہ عدت میں نکاح کرنے اور مجامعت کرنے سے حرمت لازم نہیں آتی کیونکہ اس کے متعلق قرآن مجید۔حدیث شریف اور اجماع است سے کوئی تائید نہیں ملتی۔بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمر نے اس کے متعلق حرمت کا فتویٰ دیا اور حق مہر بیت المال سے ادا کیا لیکن جب حضرت علی کو علم ہوا تو انہوں نے اس کے خلاف مشورہ دیا۔چنانچہ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنے پہلے قول سے رجوع کیا اور اسکی حرمت کا فیصلہ واپس لے لیا۔اور اس کا حق مہر بھی خاوند کے ذمہ قرار دیا۔یہ روایت ثوری نے الشعب اور شعبی کے واسطہ سے مسروق ” سے بیان کی ہے۔اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ حاملہ لونڈی سے جبکہ اس کا حمل کسی اور کا ہو۔اس وقت تک جماع نہ کیا جائے جب تک وضع حمل نہ ہو جائے۔کیونکہ اس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر روایات بیان ہوئی ہیں۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر حاملہ لونڈی سے مجامعت کرے تو بچہ آزاد ہو گا یا نہیں۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وہ آزاد نہیں ہوگا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سب یہ ہے کہ اس بارہ میں اختلاف ہے کہ کیا حاملہ عورت سے مجامعت کرنے سے مرد کا نطفہ بچے کی خلقت پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں۔جن کے نزدیک وہ اثر انداز ہوتا ہے ان کے منہ دیک وہ بچہ ایک جہت سے اس کا اپنا بچہ ہی ٹھہرا لیکن جن کے نزدیک وہ نطفہ بچے کی خلقت پر اثر انداز نہیں ہوتا ان کے نزدیک وہ بچہ اس کا نہ ہوا لہذا وہ آزا د بھی نہ ہوگا۔ہیں۔جن کے نزدیک وہ بچہ آزاد ہو گا وہ اپنی تائید میں یہ روایت بھی بیان کرتے