ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 100 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 100

صحابہ کا قول محبت ہے اور بعض کے نزدیک صحابہ کا قول حجت نہیں ہے۔اس مسئلہ کے متعلق امام مالک نے ایک روایت نقل کی ہے :- عَنِ ابْنِ شَهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانَ ابْنِ يَسَارِ ان عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَّنَ بَيْنَ طَلِيعَةَ الْأَسَدِيَّةِ وَبَيْنَ زَوْجِهَا راشد الشَّفَفِ لَمَّا تَزَوَجَهَا فِى الْعِدَّةِ مِنْ زَوْجِ ثَانٍ وَقَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عَدَتِهَا مِنَ الْاَوَّلِ ثُمَّ كَانَ الْأَخَرُ خَاطِيَّا مِنَ الْخُطَّابِ وَإِن كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَة عِدَتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الأخَرِ ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ اَبَدال سعید کہتے ہیں کہ اس صورت میں دوسرا خاوند اس عورت کو حق مہر ادا کرے گا۔کیونکہ اس نے اس سے مجامعت کرلی ہے۔بعض لوگ اس حکم کو ایک قیاس کی وجہ سے بھی ضروری قرار دیتے ہیں اور وہ قیاس یہ ہے کہ چونکہ اس نے عدت میں مجامعت کر کے نسب میں سفبہ پیدا کر دیا ہے اس لئے یہ لفاتق کے قائمقام ہوا۔لہذا اس پر حکم بھی لعان کا لگے گا یعنی ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگی اور حق مہر ادا کرتا ہو گا لیکن علامہ ابن رشد کہتے ہیں کہ یہ قیاس ضعیف ہے۔اہ ترجمہ نہ ابن شہاب نے ابن المسیب اور سلیمان بن یسار کے واسطہ سے یہ روا بہت بیان کی ہے کہ حضرت عمر نے طلیحہ اور اس کے خاوند کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ فرمایا کیونکہ انہوں نے عزت کے عرصہ میں نکاح کیا تھا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت اپنے پہلے خاوند کی عدت میں دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرلے پھر اگر وہ دوسرا خاوند اس سے مجامعت کرے تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ کیا جائے۔اس کے بعد وہ پہلے خاوند کی عدت گزارے۔پھر دوست کے خاوند کی عدت گزارے پھر وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔اگر مرد اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو اور بیوٹی لگا کرے۔تو اس کے متعلق قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ اس صورت میں مرد چار دفعہ ی قسم کھائے کہ وہ اس الزام میں سچا ہے اور پانچویں دفعہ یہ قسم کھائے کہ اگر وہ چھوٹا ہے تو اس پر خدا کی لعنت ہو۔اسی طرح عورت چار دفعہ یہ قسم کھائے کہ اس کا خاوند جھوٹ بولتا ہے۔پانچویں و قعد یہ قسم کھائے کہ اگر اس کا خاوند اس الزام میں سچا ہے تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔