ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 88
^^ نکاح حرام ہو۔ایسی دو عورتوں کو ایک عقد میں جمع کرنا منع ہے۔بعض فقہار اس اصول کو دو طرت سے ملحوظ رکھتے ہیں اور بعض صرف ایک طرف سے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دونوں طرفوں میں سے کسی ایک طرف کو مرد تصویر کیا جائے تو ان دونوں کا آپس میں نکاح شرعاً منع ہو تو ان کو ایک عقد میں جمع کرنا بھی منع ہے۔ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ اگر طرفین میں سے ایک طرف کو مرد تصور کرنے سے شرعی خرمت لازم آتی ہو لیکن دوسری طرف کو مرد تصور کرنے سے حرمت لازم نہ آتی ہو تو ان دو عورتوں کو ایک عقد میں جمع کرنا جائز ہے۔ان ہر دو صورتوں کی مثالیں علی الترتیب درج ذیل ہیں۔زار دل، ایک شخص ایک عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک عقد میں جمع نہیں کر سکتا۔کیونکہ اگر اس عورت کو مرد اور کھو بھی کو عورت تصور کیا جاوے تو یہ رشتہ بھو بھی بھیجے کا بنتا ہے۔چونکہ شرعا ان دونوں کا نکاح حرام ہے اس لئے یہ دونوں عورتیں ایک عقد میں جمع نہیں ہو سکتیں۔(ب) اگر پھوپھی کو مرد اور اس عورت کو عورت تصور کیا جاوے تو یہ رشتہ چچا اور بھتیجی کا بنتا ہے۔اس لئے ان دونوں عورتوں کا ایک عقد میں جمع کرنا بھی ملع ہے۔(۳) دوسرے مسئلے کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کسی متوفی کی بیوی سے نکاح کرتا ہے۔اور پھر اس متوفی کی دوسری بیوی کی لڑکی کو بھی اپنے عقد میں جمع کرنا چاہتا ہے۔یہ صورت ایک گروہ کے نزدیک جائز ہے۔اور دوسرے گروہ کے نزدیک نا جائز ہے۔کیونکہ اگر ایک طرف سے عورت کو مرد تصور کیا جائے تو شرعاً ان کا نکاح جائز ہے۔لیکن اگر دوسری طرف سے عورت کو مرد تصور کیا جاوے تو ان کا نکاح ناجائز ہے۔یعنی اگر دوسری بیوی کی لڑکی کو مرد تصور کیا جائے۔تو متوفی کی بیوی اس لڑکے کے باپ کی بیوی ہوگی اور شرعا ان دونوں کا نکاح حرام ہے۔