ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 87 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 87

نزدیک جائز ہے۔اسی طرح امام شافعی کے نزدیک اپنی بیوی کے ساتھ اس کی عمر " یعنی پھوپھی رباپ کی بہن یا دادا کی بہین ، اور اپنی بیوی کے ساتھ اس کی خالہ زماں کی بہن یا نانی کی ہوں ؟ جمع کرنا منع ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ابو ہر یہ رہنے کی روایت میں یہ ثابت ہے اور اس کے مطابق صحابہ کا عمل بھی ہے۔روایت یہ ہے۔أن لا يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا فقہار میں ایک مشہور اختلاف یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں خصوصی ممانعت مد نظر ہے یا عمومی ممانعت ہے اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس روایت میں بعض خاص رشتوں کی مانعت کی گئی ہے لیکن اصل مقصد ان خاص رختوں کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس میں ممانعت کا ایک اصول بیان کیا گیا ہے جہاں جہاں یہ اصول پایا جائے گا وہاں یہ ممانعت اور حرمت لازم آئے گی۔وہ اصل جو اس سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ جہاں دو عورتوں کے درمیان رحمی تعلق ہوگا وہاں ان کو جمع کرنا منع ہو گا۔بیان کردہ تفصیل کے ماتحت گو مذکورہ روایت ہمیں دو مخصوص رشتوں کو جمع کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔لیکن اس سے یہ اصول مستنبط ہوا کہ یہاں بھی رحمی تعلق ہو گا ان کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہ ہوگا۔مثلاً عورت اور اس کی پھوپھی زاد بہن۔عورت اور اسکی خالہ ندا و بہن کو بھی ایک عقد میں جمع کرنا منع ہوگا۔وغیرہ۔ایک گروہ کے نزدیک یہ مانعت خصوصی ہے۔اور اس سے مراد وہی خاص رشتے ہیں جو اس میں مذکور ہیں اور حرمت کی حد اس سے آگے تجاوز نہیں کرتی بعض لوگوں نے اس حرمت کے لئے ایک اور اصول وضع کیا ہے۔اور وہ یہ ہے کر ان دو عورتوں میں سے اگر کسی ایک کو مرد تصور کیا جائے اور شرعا ان دونوں کا آپس میں له ترجمه :- ایک عقد میں عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ اور عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ جمع نہ کیا جائے (نسائی کتاب النکاح باب المجمع بين المرأة وقمتها )