ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 83
ایک عورت کی شہادت کے متعلق اختلاف کا سبب یہ ہے کہ ایک روایت اور ایک اصولی حکم جس پر سب کا اتفاق ہے ان میں باہم تعارض ہے۔اصولی حکم یہ ہے کہ مردوں میں دو مردوں سے کم کی خواہی قبول نہیں ہوتی اور عور توں کی گواہی میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔اس بارہ ہیں جو روایت بیان کی گئی ہے وہ عقبہ بن حارث کی یہ روایت ہے۔قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اِنّى تَزَوَجْتُ امْرَأَةً نَانَتْ مَرَأَةٌ نَقَالَتْ قَدْ ال ضَعَتُكُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ دَعَهَا عَنْكَ بعض نے اس روایت کے متعلق یہ کہا ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہیں ہے بلکہ آپ نے یہ شورہ دیا ہے کہ تمہارے لئے اس حالت میں بہتر یہ ہے کہ تم اس عورت کو طلاق دے دو۔دودھ پلانے والی کے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ ہر عورت خواہ بالغہ ہویا اوصات نابالغہ۔خواہ اسے حیض آتا ہو یا اسے اب حیض آنے کی امید نہ ہو یعنی وہ بوڑھی ہو چکی ہو۔اس کا خاوند زندہ ہو یا بیوہ ہو حاطہ ہو یا غیر حاملہ ان سب صورتوں میں اگر کوئی بچہ رضاعت کے عرصہ میں اس کا دود وپیئے گا تو اس سے حرمت لازم آئے گی۔بعض فقہاء نے یہ مذہب بھی اختیار کیا ہے کہ مرد کے دودھ سے بھی حرمت آجاتی ہے۔امام ابن رشد بیان فرماتے ہیں کہ یہ تو صورت ہی غیر ممکن ہے چہ جائیکہ اس کا کوئی شرعی حکم موجود ہو لیکن اگر کوئی ایسی صورت ممکن بھی ہو تو اس پر دودھ کے لفظ کا اطلاق نہ ہوگا ہندا اس کا حکم بھی وہ نہ ہوگا۔جو عورت کے دودھ کا بیان کیا گیا ہے۔ه ترجمه: عقبہ بن حارثہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ سینے ایک عورت سے شادی کی ہے اور ایک عورت میرے پاس آئی ہے جو یہ کہتی ہے کہ پینے تم دونوں کو و و وہ پہلا یا ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس کے متعلق ایسا کہا گیا ہے تو یہ نکاح کس طرح رہ سکتا ہے۔لہذا تم اس کو چھوڑ دو یعنی طلاق دے دو۔