ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 71
41 بین لوگوں کے نزدیک اس شرط کا تعلق دونوں کے ساتھ ہے۔ان کے نزدیک دونوں کی خدمت کے لئے بیویوں سے مجامعت ضروری ہے۔جمہور کی دلیل ایک روایت ہے جو ان الفاظ میں مذکور ہے:۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ اَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ إِمْرَ أَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلُ فَلَا تَحِلُّ لَهُ اُمُّهَا له زنا سے حرمت زناء کے بارہ میں اختلاف ہے کہ اس سے حرمت لازم آتی ہے یا نہیں۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ زنا ر سے اسکی ماں اور بیٹی حرام نہیں ہوتی۔اسی طرح زانی کے باپ اور اس کے بیٹے کی حرمت بھی اس عورت یا اسکی ماں یا بیٹی سے لازم نہیں آتی۔امام ابو حنیفہ - ثوری اور اوزاعی کے نزدیک نہ تار سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نکاح سے حرام ہوتے ہیں۔موطار امام مالک میں بھی امام شافعی کے قول کے موافق قول نقل کیا گیا ہے لیکن ابن القاسم نے امام مالک سے امام ابو ضیفہ کے موافق قول نقل کیا ہے سحنون کہتے ہیں کہ امام مالک کے دوسرے اصحاب ابی القاسم کی روایت کی مخالفت کرتے ہیں۔اور موطار کی روایت کو معتبر قرار دیتے ہیں۔لیث سے روایت ہے کہ نکاح شبیہ سے بھی حرمت لازم نہیں آتی لیکن یہ قول ضعیف ہے۔وجه اختلاف اوّل: نکاح کے دو معنی ہیں۔(1) اسلامی طریق کے مطابق 1 جمہور فقہاء کا مذہب دلائل کے لحاظ سے زیادہ مضبوط اور قابل قبول ہے۔کے ترجمہ عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کی وساطت سے اپنے داد ا سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی الشہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرے تو اس کے بعد اس کے ساتھ جماعت کر سے یا نہ کرے اس شخص پر اس عورت کی ماں حرام ہوگی۔