گلشن احمد — Page 82
162 161 کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا (اگر تمہاری طرف یہ بات منسوب کی جائے تو ) تم اس کو نا پسند کرو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ بہت ہی توبہ قبول کرنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔بچہ پیارے حضور نے غیبت کے متعلق خطبے دیے تھے تو میں نے عہد کیا تھا کہ کبھی غیبت نہیں کروں گا۔ماں۔آپ عمر کے جس دور سے گزر رہے ہیں اس کے لئے خاص طور پر پاکیزہ خیالات، پاکیزہ لٹریچر کا مطالعہ ، پاکیزہ دلچسپیاں اور پاکیزہ صحبت کی ضرورت ہے۔ہمار ذہن ماحول کا اثر ضرور قبول کرتا ہے۔اس لئے سب سے پہلے تو یہ کوشش ہو کہ ہم بُرائی کے سامنے سے بچیں اور دوسری کوشش یہ کہ ہمارے اندر نیکی بدی کی پہچان کا شعور ہو اور حوصلہ ہو کہ ہم بدی کو رد کر سکیں اور جہاں نیکی ہو اُسے اپنا لیں۔انٹرنیٹ پر نیک مقصد کے لئے جائیں۔بچی۔کالج میں داخلے کی تیاری کر رہی ہیں آپ۔ماں۔یہی سمجھ لو۔اپنی عفت ،عصمت اور عزت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔اس کے لئے ہمارے مذہب میں کچھ حد بندیاں ہیں جو بڑی پُر حکمت ہیں اُن حد بندیوں کا مقصد ہماری عزت کی حفاظت ہے۔قرآن و حدیث کی تعلیم پر نظر رکھیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔اور چاہیے کہ نامحرم کے مقابلے کے وقت تیری آنکھ خوابیدہ رہے تجھے اُس کی صورت کی کچھ خبر نہ ہو مگر اسی قدر جیسا کہ ایک دھندلی نظر سے ابتدا نزول الماء ( آنکھوں کی ایک بیماری) میں دیکھتا ہے۔“ ہے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 ص29) اس طرح وہ ابتدائی دروازہ ہی بند کر دیا جو کھلے تو بُرائی کا آغاز ہو جاتا بچہ۔آج کی دُنیا میں ایسی باتیں لوگ بہت مشکل سے قبول کرتے ہیں۔ماں۔صرف یہی نہیں ہر بات جس کو قبول کرنے میں کچھ قربانی کرنی پڑتی ہے۔لوگوں کو مشکل لگتی ہیں۔سچائی صرف ایک ہوتی ہے جیسے دو نقطے کے درمیان سیدھی لائن صرف ایک ہوتی ہے سچائی پر قائم رہیں۔بچے اصول اپنا ئیں پھر کبھی شرمندگی نہیں ہوتی۔انسان کبھی ہلکا نہیں پڑتا۔سچائی خسارے کا سودا نہیں ہوتی۔بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے۔یہ بات میں اس لئے قدرے زور دے کر بتا رہی ہوں کہ ہم جس بھی معاشرے میں رہیں گے مخالفت کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔سچائی پر یقین سے مخالفت کا خوف بالکل ختم ہو جائے گا۔بچے اصول زبر دست طاقت ہوتے ہیں ہمیشہ ناقابل شکست ہوتے ہیں۔بچہ۔آپ نے بہت اچھی بات بتائی ہے۔دُعا کیجئے کہ ہم بُرائیوں کی کشش سے بالکل نجات پا جائیں اور قائم رہنے والی نیکیاں اپنا لیں۔ماں۔ہم ہر نیکی کو اپنا ئیں اور دوسروں کو نیکی کی طرف بلائیں اس طرح ہم چلتے پھرتے داعی الی اللہ بن سکتے ہیں۔دعوت الی اللہ کے کئی طریق ہیں جن میں سب سے زیادہ اثر کرنے والا ہمارا کردا ر ہے۔حضرت مسیح موعود کے اس جملے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔چاہیے کہ ہر ایک صبح تمہارے لیے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 ص12)