گلشن احمد — Page 81
159 حُسنِ سلوک ہم اس طرح کر سکتے ہیں کہ اُن کا کہنا ما نہیں۔اُن کی خوشنودی حاصل کریں۔اُن کو آرام دینے کی کوشش کریں۔اُن کی گستاخی نہ کریں۔ماں باپ کے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں۔قرآن پاک اور احادیث میں اس نیکی کا بہت اجر لکھا ہے۔بچہ۔ماں باپ کے بعد کس سے حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔ماں۔رشتہ دار اور ہمسائے۔قریبی رشتہ دار پھر دُور کے رشتے دار اور پڑوسیوں کا دائرہ اگر وسیع کرتے جائیں تو پورا محلہ بلکہ شہر اور اس سے بڑھ کر حلقوں تک حسن سلوک کا دائرہ پھیل جاتا ہے۔ان سے حسن سلوک کا طریق یہ ہے کہ ہماری ذات سے بھلائی پہنچے بھی بھی بُرائی نہ پہنچے اور یہ ایک معلوم حقیقت کی طرح واضح ہو جائے کہ ہم انسان دوست ہیں۔بچی۔محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔بچہ۔مگر بعض رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو ہمارے حسن سلوک کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ماں۔ضرورت صرف روپے پیسے کی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس میں روحانی ضرورت شامل ہے خیر کی طرف بلانا اور بُرائی سے روکنا بھی اچھے سلوک میں آتا ہے۔خیر کی کوئی انتہا نہیں اس طرح ہمارے کام کی کوئی انتہا نہیں۔جب تک دُنیا میں بیمار، مسافر مسکین موجود ہیں۔جب تک کم کردہ راہ موجود ہیں ہمارے سامنے خدمت کے مواقع موجود ہیں۔بچی۔یہ تو آپ نے بڑی اچھی بات بتائی تکلیف اور بُرائی کو دور کرنے کے لئے ہمیں اور کیا کرنا چاہیے۔ماں۔ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔آپ کو تاریکی دور کرنی ہے تو روشنی کا انتظام کیجئے۔آپ امانت دار بن جائیں کسی کا حق نہ ماریں اور اپنا وعدہ پورا 160 کریں۔تو آپ نے امانت و دیانت کی ،عدل و انصاف کیا اور ایفائے عہد کی روشنی پھیلائی سوچئے اس طرح کس کس قسم کی تاریکی ختم ہوئی۔بچہ۔خیانت کی ظلم کی اور بدعہدی کی۔ماں۔بہت خوب اب آپ کچھ اور مثالیں دیں۔بچی۔سچ پھیلائیں گے تو جھوٹ ختم ہو گا۔صاف رہیں گے تو گندگی ختم ہوگی۔مسکرائیں گے تو غصہ ختم ہوگا۔حُسنِ ظن رکھیں گے تو بد گمانی ختم ہوگی۔بچی۔حُسنِ ظن کسے کہتے ہیں؟ ماں۔ظن کہتے ہیں گمان کو یونہی کچھ فرض کر لینا۔کچھ سوچ لینا مثلاً آپ کی کسی سہیلی نے آنے کا وعدہ کیا مگر آ نہ سکی آپ دو باتیں سوچ سکتی ہیں۔کوئی مجبوری ہو گئی ہو گی ورنہ وہ ایسی تو نہیں یا اُس کی آنے کی نیت ہی نہیں تھی یونہی وعدہ کر لیا تھا۔پہلی صورت حسن ظن اور دوسری بدظنی کہلاتی ہے۔قرآن پاک میں ہے۔يا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضاً ط أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَّاكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ ط وَاتَّقُوا الله ط إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ۔(الحجرات:13) اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجس سے کام نہ لیا کرو اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کیا کریں کیا تم میں سے