گلشن احمد — Page 72
142 141 چاہے اور لڑکی کے ماں باپ بھی رشتہ دینے پر آمادہ ہو جائیں تو اسے شادی سے پہلے اگر لڑکا دیکھنا چاہے تو ایک دفعہ دیکھ سکتا ہے۔تم جاؤ اورلڑکی کے باپ کو میری یہ بات بتا دو۔وہ گیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام اُسے پہنچا دیا مگر معلوم ہوتا ہے اس کا ایمان ابھی پختہ نہیں تھا اُس نے پھر بھی جواب دیا کہ میں ایسا بے غیرت نہیں کہ کہ تمہیں اپنی لڑکی دیکھا دوں۔لڑکی اندر بیٹھی ہوئی یہ تمام باتیں سن رہی تھی جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سُن کر بھی اپنی لڑکی کی شکل دکھانے سے انکار کر دیا تو وہ لڑکی فوراً اپنا منہ ننگا کر کے باہر آگئی اور اس نے کہا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ منہ دیکھ لو تو میرے باپ کا کیا حق ہے کہ وہ اس کے خلاف چلے میں اب تمہارے سامنے کھڑی ہوں تم بے شک مجھے دیکھ لو (ابن ماجہ کتاب النکاح مسند احمد بن حنبل جلد 4 ص 244) اگر وہ لڑکی کھلے منہ پھرا کرتی تو اُس نوجوان کو لڑکی کے باپ سے یہ کہنے کی کیا ضروری تھی کہ مجھے اپنی لڑکی دکھا دیں اور پھر رسول کریم علی صلى الله سے اس بارے میں اجازت حاصل کرنے کا کیا مطلب تھا؟ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنی بیوی کے ساتھ جن کا نام صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا شام کے وقت گلی میں سے گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی سامنے سے آ رہا ہے۔آپ ﷺ کو کسی وجہ سے شبہ ہوا کہ اس کے دل میں شاید یہ خیال پیدا ہو کہ میرے ساتھ کوئی اور عورت ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کے منہ پر سے نقاب الٹ دیا اور فرمایا کہ دیکھ لو یہ صفیہ ہے۔( بخاری باب الاعتکاف و مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص136) اگر منہ کھلا رہنے کا حکم ہوتا تو اس قسم کے خطرے کا کوئی احتمال ہی نہیں ہو سکتا تھا۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ جنگ جمل میں فوج کو لڑا رہی تھیں اور اُن کی ہودج کی رسیوں کو کاٹ کر گرا دیا گیا تو ایک خبیث الطبع خارجی نے اُن کے ہودج کا پردہ اُٹھا کر کہا ” اوہو یہ تو سرخ و سفید رنگ کی عورت ہے۔اگر رسول کریم ﷺ کی بیویوں کا منہ کھلا رکھنے کا طریق رائج ہوتا تو جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہودج میں بیٹھی فوج کو لڑا رہی تھیں تو اُس وقت وہ انہیں دیکھ چکا ہوتا اور اُس کے لئے یہ کوئی تعجب کی بات نہ ہوتی۔وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں اُن سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے۔اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔- بچی۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پردہ ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ماں۔اسلامی پردے کے قواعد کے تفصیلی مطالعہ سے ہمیں علم ہو چکا ہے کہ عورت پردے کے ساتھ ہر طرح مردوں کے کاموں میں شامل ہو سکتی ہے۔وہ مردوں سے پڑھ سکتی ہے۔مردوں کو پڑھا سکتی ہے۔اگر کسی جلسہ میں تقریر کی ضرورت ہو تو عورت تقریر کر سکتی ہے۔علم وادب میں الگ انتظام کے ساتھ شریک ہوسکتی ہے۔ضرورت کے وقت رائے دے سکتی ہے۔سفر کے دوران مردوں کے ساتھ ایک سواری میں سفر بھی کر سکتی ہے بازاروں میں جاسکتی ہے۔مرد ڈاکٹروں سے علاج کروا سکتی ہے۔سیر و تفریح کی بھی اجازت ہے پھر بندش کہاں ہے۔بندش صرف زیب و زینت کر کے یا سادے چہرے کے ساتھ کھلے منہ مخلوط پارٹیوں میں شریک ہونے ، مردوں کے ساتھ بے تکلفی سے بے حجابانہ گفتگو کرنے لغو محفلوں میں شریک ہونے کی ہے۔جہاں تک ترقی کی راہ میں حائل ہونے کی بات ہے یہ تو اپنی اپنی سوچ کا انداز ہے کوئی کسی چیز کو ترقی سمجھتا ہے اور کوئی کسی