گلشن احمد — Page 60
118 117 علیہ السلام تشریف لائے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ چودھویں صدی ثابت ہوتا ہے۔ماں۔بالکل درست آپ نے اپنی کتاب ”گل“ میں حضرت مسیح موعود کے تشریف لانے کا وقت ، نشانیاں ، آپ کے ملک کا نام اور گاؤں کا نام ، آپ کا نام اور حلیہ ، پیشہ سب کچھ پڑھا تھا اور ہر بات حدیث کے حوالے سے پڑھی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اُن کی اس پیش خبری پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ ایک موعود مسیح کو اور موعود مہدی کو اس زمانے میں تشریف لانا ہے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ ہی کے ارشاد کے مطابق دونوں ایک ہی وجود ہیں۔لا المهدى الا عيسى “ عام مسلمان یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کا دور اسلام کی نئی زندگی کا دور ہوگا اور اسلام کو دوسرے مذاہب پر غلبہ دیا جائے گا۔اور یہ کہ مسیح کا زمانہ پانے والے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہم مرتبہ ہوں گے۔یہ عقیدہ بھی ہے کہ زمانے کے سب مصائب کا حل حضرت مسیح کے پاس ہوگا۔۔جیسا کی حدیث مبارکہ ہے۔661 كَيْفَ تَهْلِک أُمَّةٌ آنَا فِي أَوَّلِهَا وَالْمَسِيحُ في أخرِهَا (كتاب ابن ماجه باب الاعتصام ى بالسنه ) وہ اُمت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہو گا۔“ ان تسلیم شدہ باتوں کے علاوہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کی شناخت کے بارے میں جو نشانات بیان فرمائے ہیں وہ بھی مسلمانوں کے ہر فرقے کی مسلمہ کتب میں ملتے ہیں۔بچہ۔جو کچھ میں نے بڑوں سے سُنا ہے ان میں بعض بالکل عام سی باتیں ہیں۔امانت اُٹھ جائے گی ، جہالت پھیل جائے گی وغیرہ وغیرہ یہ تو بالکل عمومی سی باتیں ہیں کسی بھی معاشرے میں کسی بھی وقت ظاہر ہو سکتی ہیں۔ماں۔میں نے احادیث صحیحہ کا تفصیل سے مطالعہ کر کے ایسی نشانیاں جمع کی ہیں جن کو یکجا رکھ کر دو اور دو چار کی طرح زمانے کی حالت کا اندازہ ہو جائے گا۔ان میں سے کچھ میں بیان کرتی ہوں اور آپ اپنے ذہن میں خاکہ بناتے جائیے۔اُس وقت مسیحیت کا بہت زور ہوگا (مسلم جلد 2 کتاب الفتن ) اسلام اس زمانے میں بہت ہی کمزور ہوگا۔مسلمان دجال کے پیرو ہو جائیں گے۔(ابن ماجہ باب الاسلام غریباً) ( ترمذی ابواب الفتن باب ماء جانی فتنہ الدجال) مسلمان تقدیر کے منکر ہو جائیں گے۔(حضرت علیؓ) لوگ زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے۔( حج الکرامہ ص 298) وہ قوم جو ہر عزیز سے عزیز شے کو خدا اور رسول کے اشارے پر قربان کر دیتی تھی اور دنیا اس کی نظر میں ایک مُردار سے زیادہ حقیقت نہ رکھتی تھی وہ دُنیا کی خاطر دین کو فروخت کرے گی۔نماز ترک ہو جائے گی۔(نج الکرامہ ص 927) نماز بہت جلد جلد پڑھی جائے گی۔پچاس آدمی نماز پڑھیں گے ان میں سے کسی ایک کی نماز بھی قبول نہ ہو گی۔(ابن مسعودؓ سے ابو الشیخ نے اشاعۃ میں بیان کیا ہے)