گلشن احمد — Page 51
100 99 اتنی ممالک میں جماعت قائم تھی ) 21 فروری 2003 کو آپ نے اپنی زندگی کی آخری تحریک 'مریم فنڈ کے نام سے کی جس کے تحت غریب بچیوں کی شادی کے لئے ایک مستقل فنڈ قائم ہو آپ نے بیس سے زائد کتب تحریر فرمائیں۔جن میں ترجمۃ القرآن ، مذہب کے نام پر خون، ہومیو پیتھی علاج بالمثل، سوانح فضل عمر،, زهق الباطل حوا کی بیٹیاں اور کلام طاہر ,Revelation Christianity a journey From Facts To Fiction جیسی عظیم الشان کتب شامل ہیں۔علم و عرفان کی دنیا پر راج کرنے والا ،غریبوں کا ہمدرد محبتوں کا امین، ہر رخ سے چمکنے والا ہیرا، انتہائی کامیابی سے اپنے مفوضہ فرائض ادا کرنے کے بعد اپنے رب کے بلاوے پر راضیۂ مرضیہ عالم بالا کو سدھارا۔9اپریل2003 کا دن جماعت کے ہر فرد کو تڑپا گیا۔اس عظیم صدمے میں ایم ٹی اے نے سب کو اُن کے آخری سفر میں ساتھ ساتھ رکھا۔اُس تاجدار دین کی رحلت کے غم اور خوف کے عالم کو امن میں بدلتے دیکھا۔جماعت نے قدرت ثانیہ کے مظہر خامس کے ہاتھ پر بیعت کی۔23 اپریل بروز بدھ اسلام آباد ٹلفورڈ میں تدفین ہوئی۔اے خدا بر تربت او ابر رحمت ہا بیار حضرت مرزا مسرور احمد خلیفه لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 22 اپریل 2002 کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جماعت احمدیہ کا پانچواں خلیفہ بنایا۔آپ 15 ستمبر 1950 کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد و صاحبزادی ناصرہ بیگم کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے ،حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد کے پوتے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے نواسے ہیں۔آپ نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے بی۔اے کیا پھر 1967 میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی آپ کا مضمون ایگریکلچرل اکنامکس تھا۔1977 میں آپ نے زندگی وقف کی اور نصرت جہاں سکیم کے تحت غانا بھجوائے گئے۔جہاں 1977 سے 1985 تک آپ کا قیام رہا واپس آنے پر آپ نے نائب وکیل المال ثانی، ناظر تعلیم ، صدر صدرا م ،صدر صدر انجمن احمدیہ، ناظر اعلیٰ ،